I always say the above to my selected friends.
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۴۵
ہر مہینہ آتا ہے۔ اس کی ششماہی اور سالانہ خریداری کا انتظام بھی ہے۔ سارے کیسٹ مولانا کی پُر تاثیر آواز میں اور کسی تکلف اور تصنع کے بغیر اس طرح پیش کیے جاتے ہیں کہ ایک بار سن لیجیے تو پورا سنے بغیر چارہ نہیں۔ مارشل لک لوہاں نے پتہ نہیں کس ترنگ میں یہ کہہ دیا تھا کہ الیکٹرونک کی ترقی کے ساتھ چھپا ہوا لفظ مر جائے گا۔ مگر مولانا کے تبلیغی کیسٹ کو سننے کے بعد یہ کہنا پڑتا ہے کہ سائنسی ایجادات سے ترسیل و ابلاغ کا زیادہ سے زیادہ مفید کام لیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس کا انحصار استعمال کرنے والے کے حوصلہ اور نیت پر ہے۔ ظاہر ہے مولانا تحریر یا کیسٹ کے ذریعہ جو خدمت بھی کر رہے ہیں خلوص اور انسانیت کے جذبہ سے کر رہے ہیں۔ اس لیے جو لوگ اپنے دل میں انسانیت کی شمع جلائے رکھنا یا جلا نا چاہتے ہیں انہیں مولانا کی تحریر اور تقریر (کیسٹ) سے فی الفور استفادہ کرنا چاہیے۔ ۴۔ الرسالہ کے مضامین کثرت سے لوگوں کی زبانوں پر آ کر بالواسطہ طور پر پھیل رہے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے مدرسہ کے شیخ الحدیث اپنی تقریر وں میں آپ کی تصانیف کے اقتباسات پورے حوالے کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ میں نے ان سے آپ کی تازہ تصنیف " عظمت قرآن " کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورا یہ کتاب منگوا کر مجھے دو۔ مجھے لیلہ القدر کے موضوع پر ۲۶ رمضان کو مسجد میں تقریر کرنا ہے۔ اس سے پہلے میں اس کتاب کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ کیوں کہ اس موضوع پر کوئی نیا علمی مواد اسی کتاب میں مل سکتا ہے ۔ ( ۱۷ مئی ۱۹۸۶ ) ۵۔ دوسرے متعدد اخبارات کی طرح بمبئی کے کثیر الاشاعت اخبار " انقلاب " نے بھی الرسالہ کے مضامین چھاپنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ مضمون " اوروں کی زبانی " کے عنوان کے تحت نقل کیا جاتا ہے اور بہت دل چسپی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ۔
۶۔ جناب خالد بن عمر (دبئی) الرسالہ انگریزی پابندی کے ساتھ منگا کر پڑھتے ہیں۔ ان کا خط مورخہ 7مئی ۱۹۸۶ موصول ہوا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں :
" AL-RISALA " is worth reading even for non-Muslims"
I always say the above to my selected friends.
-۷ جناب ضیاء الدین باباخانوف کا خط تا شقند (روس) سے موصول ہوا ہے ۔ اس خط پر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues