مرد اور عورت کا فرق
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۱
مرد اور عورت کا فرق
انگریز مستشرق ایڈورڈ ولیم لین (۱۸۰۱ء - ۱۸۷۶ء) نے قرآن کے منتخب حصوں کا انگریزی ترجمہ تیار کیا تھا۔ یہ ترجمہ پہلی بار لندن سے ۱۸۲۳ء میں چھپا۔ اس ترجمہ کے ساتھ ایک دیباچہ شامل تھا۔ اس دیباچہ میں فاضل مترجم نے اسلامی تعلیمات کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام کا تباہ کن پہلو عورت کو حقیر درجہ دینا ہے :
The fatal point in Islam is the degradation of women. Edward William Lane, Selections from Kuran, London 1982, p. XC (Introduction)
یہ بات اتنی عام ہوئی کہ ہر شخص بے تکلف اس کو دہرانے لگا۔ اس بیان پر اب تقریباً ڈیڑھ سو سال گزر چکے ہیں مگر ابھی تک لوگوں کے یقین میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہندوستان کے سابق چیف جسٹس مسٹر چندراچوڑ نے محمد احمد۔ شاہ بانو کیس میں ۱۹۸۵ میں جو فیصلہ دیا ہے اس میں بھی اس بیان کو اس طرح بے تکلف دہرایا گیا ہے جیسے کہ وہ کوئی مسلمہ حقیقت ہو ۔
عورت کے بارہ میں اسلام کے نقطہ نظر کو تنزیل رتبه (Degradation) سے تعبیر کرنا اصل بات کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے۔ عورت کے بارہ میں اسلام کا کہنا یہ نہیں ہے کہ وہ مرد سے کم ہے۔ اسلام کا کہنا صرف یہ ہے کہ عورت مرد سے مختلف ہے۔ یہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں فرق کا معاملہ ہے نہ کہ ایک کے مقابلہ میں دوسرے کے بہتر ہونے کا :
Not better, but different.
ایک ڈاکٹر اپنے مریض سے کہتا ہے کہ ___ "آنکھ تمہارے جسم کا نہایت نازک حصہ ہے تم اپنی آنکھ کے ساتھ وہ معاملہ نہیں کر سکتے جو ، مثال کے طور پر ، تم اپنے ناخن کے ساتھ کرتے ہو۔ اپنی آنکھ کے معاملہ میں تم کو زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا پڑے گا"۔ ڈاکٹر کی اس ہدایت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناخن کے مقابلہ میں آنکھ کو کم تر درجہ دے رہا ہے ۔ بلکہ وہ ناخن کے مقابلہ میں آنکھ کے فرق کو بتا رہا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues