Not better, but different.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۲
عورت اور مرد کے بارے میں اسلام میں جو قوانین ہیں وہ سب اسی اصولی حقیقت پر مبنی ہیں کہ عورت اور مرد دو الگ الگ صنفیں ہیں۔ تخلیقی اعتبار سے دونوں کے اندر قطعی فرق پائے جاتے ہیں۔ اس لیے خاندانی اور سماجی زندگی میں دونوں کا دائرہ عمل ایک نہیں ہو سکتا۔ جب دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی بناوٹ کے اعتبار سے فرق ہے تو ان کے درمیان عمل کے اعتبار سے بھی لازمًا فرق ہونا چاہیے۔
عورت کے بارے میں یہی تمام آسمانی مذاہب کا نقطہ نظر رہا ہے۔ پچھلی ہزاروں برس کی تاریخ میں کبھی اس پر شبہ نہیں کیا گیا۔ دورِ جدید میں آزادی نسواں کی تحریک (Women’s Liberation Movement) نے پہلی بار دنیا میں یہ ذہن پیدا کیا کہ عورت اور مرد دونوں یکساں ہیں اور دونوں کو ہر میدان میں بالکل یکساں کام کے مواقع ملنے چاہئیں۔
یہ تحریک سب سے پہلے برطانیہ میں اٹھارھویں صدی میں اٹھی۔ اور اس کے بعد پورے یورپ اور امریکہ میں پھیل گئی ۔ میری وولسٹون کرافٹ (Mary Wollstonecraft) Wollstonecraft)نے1792 میں ایک کتاب چھاپی جس کا نام تھا :
A Vindication of the Rights of Women اس کتاب کا خلاصہ یہ تھا :
Women should receive the same treatment as men in edu- cation, work opportunities, and politics and that the same moral standards should be applied to both sexes (X/733). تعلیم ، روزگار اور سیاست کے میدان میں عورتوں کو وہی مواقع ملنے چاہئیں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ ایک ہی اخلاقی معیار ہونا چاہیے جو دونوں صنفوں پر منطبق کیا جائے۔
اس بات کو اتنے زور و شور کے ساتھ اٹھایا گیا کہ ہر طرف اس کا غلغلہ برپا ہو گیا۔ مرد اور عورت دونوں اس میں یکساں طور پر شریک تھے ۔ حتیٰ کہ عورت اور مرد کے درمیان نابابری کی بات کہ نا پس ماندگی کی علامت قرار پایا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک یہ فکر ساری دنیا میں چھا چکا تھا۔ اب اسی کے مطابق قوانین بنائے گیے۔ اسی کے مطابق ہر شعبہ مردوں کی طرح عورتوں کے لیے کھول دیا گیا ، وغیر وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues