Al-Risala · September 1986 · page 23

صرف مسائل پیدا ہوئے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳

یہ کہ شہرت بالآخر ختم ہو جاتی ہے ۔ اور دوست بالآخر ساتھ چھوڑ دیتے ہیں جب کہ ایک عورت کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے یہ امریکی خاتون نہایت حسرت بھرے انداز میں کہتی ہے :

حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت ہی اس بات کو جانتی ہے کہ اکیلا پن کیا ہے۔ ناول کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت اکیلی نہیں رہ سکتی۔ فلمی دنیا کے ذریعہ بڑی بڑی کمائی کرنا اور اپنے لئے ایک خود مختار زندگی حاصل کرنا بظاہر بڑا پر کشش معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب عورت کی عمر زیادہ ہوتی ہے ۔ جب اس کے ساتھیوں میں اس کے لئے کشش باقی نہیں رہتی تو وہ ایک ناقابل برداشت حادثہ سے دوچار ہوتی ہے۔

اس کے پاس دولت اور مادی ساز و سامان کا انبار ہوتا ہے۔ مگر وہی چیز نہیں ہوتی جس کی ایک عورت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یعنی زندگی کا چین ۔ اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ انسان نہیں ہوتا جو اس کے صبح و شام میں اس کا ساتھی بن سکے۔ وہ ایک ایسے آباد گھر کی مالک نہیں ہوتی جس کو وہ اپنا گھر سمجھے :

یہ ایک تنہائی ہے جو خود مختار زندگی سے برآمد ہوتی ہے ، ایک دیانت دارانہ فردیت ، ایک ایسے سماج میں جہاں بد دیانتی ہی سب سے بڑا نفع بخش سرمایہ ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا نظام بے حد نازک ترکیب کے ساتھ بنایا گیا ہے ۔ اس میں ادنی تبدیلی بھی صرف بربادی پر ختم ہوتی ہے ۔ جمادات اور نباتات کی دنیا کے لئے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کامیابی کا راز یہ ہے کہ فطرت کے بنائے ہوئے نظام سے انحراف نہ کیا جائے ۔ یہاں مطلوب نتیجہ تک پہنچنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ فطرت کے مقررہ ڈھانچہ کو قبول کیا جائے ۔ مگر وہی انسان جو جمادات اور نباتات کے معاملہ میں اس حقیقت کی مکمل پابندی کرتا ہے وہ خود اپنی زندگی کے معاملہ میں اس ابدی حقیقت کو بھول جاتا ہے۔

عورت اور مرد کے لیے فطرت کا بنایا ہوا نظام یہ ہے کہ وہ شادی شدہ زندگی گزاریں ۔ ان کی جسمانی ساخت ، ان کے نفسیاتی اور خاندانی مسائل ، ان کے اجتماعی رشتے سب اپنی درستگی کے لیے شادی شدہ زندگی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ عورت کا آزاد اور خود مختار ہونا ، الفاظ کے اعتبار سے بظاہر بڑا خوبصورت معلوم ہوتا ہے مگر اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page