Al-Risala · September 1986 · page 32

شبلی اور علی گڑھ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲

شبلی اور علی گڑھ

مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴- کا تعلق علی گڑھ سے ۱۸۸۳ء میں قائم ہوا۔ اور سولہ برس تک جاری رہا۔ شبلی کا تعلق جس خاندان سے تھا، وہ سرسید کی تعلیمی تحریک سے بہت متاثر تھا۔ ان کے والد شیخ حبیب اللہ صاحب اس کے زبردست حامی تھے۔ اور اپنے لڑکے مهدی حسن صاحب کو حافظ بنانے کے بعد مزید تعلیم کے لئے علی گڑھ کالج میں داخل کرایا تھا۔ ۱۸۸۳ء میں کالج کو مشرقی زبانوں کے ایک معلم کی ضرورت ہوئی۔ مولاناشبلی نے اس جگہ کے لئے درخواست بھیجی جو سرسید اور مولوی محمد سمیع اللہ خاں صاحب کی اتفاق رائے سے منظور ہوئی مولانا کو ایف اے اور بی اے کی کلاسوں کو عربی اور فارسی پڑھانے کا کام سپرد ہوا۔ مولانا کا تقرر اس وقت چالیس روپے ماہوار پر ہوا تھا۔ شروع زمانہ کا واقعہ ہے، کالج میں کوئی تقریب تھی جس میں استادوں کی کرسیاں تنخواہ کی ترتیب سے بچھائی گئی تھیں۔ اس ترتیب میں مولانا شبلی کی کرسی سب سے پیچھے تھی۔ اپنی یہ حالت دیکھ کر مولانا شبلی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مگر صلاحیت ایسی چیز ہے جو اپنے آپ کو منوا کر رہتی ہے۔ چنانچہ جلد ہی بعد ایسا ہوا کہ نہ صرف ان کی تنخواہ بڑھ گئی ، بلکہ اپنے علم و فضل کی بدولت انھوں نے کالج کی بزم میں صدر نشینی کی حیثیت حاصل کرلی۔

سب سے پہلے تو ان کی وہ مرعوبیت ختم ہوئی جو اس زمانے میں ایک مولوی کو عام طور پر انگریزی دانوں سے ہوتی تھی۔ علی گڑھ جانے کے چند ہی مہینے بعد ایک عزیز کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں: یہاں آکر میرے تمام خیالات مضبوط ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ انگریزی خواں فرقہ نہایت مہمل فرقہ ہے۔ مذہب کو جانے دو، خیالات کی وسعت ، سچی آزادی، بلند ہمتی، ترقی کا جوش برائے نام نہیں۔ یہاں ان چیزوں کا ذکر تک نہیں آتا، بس خالی کوٹ پتلون کی نمائش گاہ ہے۔ ہمارے شہر کے نوخیز لڑ کے مجھ کو بی اے کی نسبت (اس زمانے میں بی، اے بڑی چیز تھی) یہ خیال دلاتے تھے کہ مذہبی باتوں کو تمام تر ضعیف ثابت کر دیں گے ۔ لاحول ولا ..... وہ غریب توز مین کی حرکت بھی نہیں سمجھ سکتے۔

( حیات شبلی (۱۹۴۳ (۱۳۱)

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page