Al-Risala · September 1986 · page 33

شبلی اور علی گڑھ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۳

اس کے بعو کالج کی دنیا میں شبلی کو جو مقام ملا، اس کو مولا نا سید سلیمان ندوی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

" محمدن کالج علی گڑھ اپنے طرز کا پہلا کالج تھا جس میں انگریز، ہندو، مسلمان ، ہر قسم کے استاد اور شاگرد تھے۔ ایسے ماحول میں ایک پرانا یوریا نشیں عالم جس نے کبھی انگریزی کا ایک حرف بھی نہیں پڑھا، جس نے انگریزوں کی صحبت کبھی نہیں اٹھائی تھی ، جو نئے تہذیب و تمدن کے سایہ میں کبھی نہیں بیٹھا تھا، یکایک آیا اور اس پورے ماحول میں رہ کر اس طرح سب میں سما گیا کہ وہ کہیں سے بیگانہ نہیں ہونے پایا ... مولانا شبلی کا حال یہ تھا کہ وہ محفل پر چھائے رہتے تھے اور ہر علمی بحث میں ان کا قول فیصل تھا۔ انھوں نے نہ صرف اپنی بلکہ علمائے اسلام کی قدر و منزلت کو بڑھا دیا اور قدیم علوم و فنون کے مرتبہ کو اتنا اونچا کیا کہ پروفیسر آرنلڈ اور دوسرے انگریز پروفیسروں کو ان کی تحسین بلکہ تحصیل پر مجبور کر دیا۔ ایسے زمانہ میں جب کہ کالج میں ہر طرف سے نئے علوم، نئے مسائل ، اور نئی تحقیقات کی بارش ہو رہی تھی، ایک مولانا ہی کا وجود تھا جو اس مسلسل بارش کے طوفان میں اسلامی علم و فن کے منارہ کو اس مضبوطی سے اپنی جگہ پر جمائے ہوئے تھا کہ ان کو اس طوفان خیز سیلاب سے کوئی خطرہ نہ رہا۔ " (حیات شبلی - -148 حقیقت یہ ہے کہ مولانا شبلی نے علی گڑھ میں قیام کر کے ایک عظیم سبق دیا ہے۔ یہ سبق کہ عزت اور مقام حاصل کرنے کا راز صرف تنخواہ اور ڈگریاں نہیں ہیں۔ ایک خالص مولوی آدمی بھی ایک بالکل ماڈرن ماحول میں عزت اور مقام حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ علم اور قابلیت رکھتا ہو۔ شبلی کو علی گڑھ میں یہ مقام ان کی گوناگوں صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ اس دور میں خیالات کو شعر کے پیرایہ میں ظاہر کرنے کا خاص ذوق تھا۔ مولانا شبلی اس میں اپناثانی نہیں رکھتے تھے۔ نہایت اعلیٰ مذاق کے اشعار لکھتے تھے اور نہایت موثر لہجے میں پڑھتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علی گڑھ میں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ کالج کے ہر جلسہ اور تقریب میں مولانا کی نظم اس کے پروگرام کا ضروری جزو ہوتی تھی ۔ اس وقت کے علی گڑھ میں شبلی کو شاعر کی حیثیت سے جو مقام حاصل تھا اس کا نقشہ ان کے دو شعروں میں بڑی اچھی طرح نظر آتا ہے۔ پچھلی صدی کے آخر میں مولانا شبلی نے روم اور مصر د شام کا سفر کیا تھا۔ واپس آئے تو علی گڑھ میں بڑا شاندار استقبال ہوا۔ اس سلسلہ میں طلبا کی یونین نے بھی ہر دسمبر

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page