شبلی اور علی گڑھ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۴
۱۸۹۲ء کو ایک بزم دعوت ترتیب دی ۔ اس موقع پر مولا نا نے اپنا ایک قصیدہ پڑھا جس کے دو شعر حسب ذیل تھے :
قاصد خوش خبر در نو ساز آمد کز سفر یار سفر کرده ما باز آمد از سفر شبلی آزاده به کالج برسید یا مگر بلبل شیراز از به شیراز آمد اس زمانہ میں علی گڑھ کی تاریخ دیکھئے تو یہ الفاظ بالکل ایک واقعہ کا بیان معلوم ہوں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے علی گڑھ کو اگر شیراز سے تشبیہ دی جائے تو شبلی اس شیراز کے بلبل تھے ۔ اسی طرح تقریر کا ملکہ بھی مولانا شبلی میں غیر معمولی تھا ۔ جس جلسہ میں تقریر کرتے پورے مجمع پر چھا جاتے ۔ 1900ء میں رام پور میں ایجوکیشنل کانفرنس کا جلسہ تھا ۔ اس زمانہ میں کلکتہ یونیورسٹی نے فارسی کو اپنے نصاب سے خارج کرنے کا اعلان کرکے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا تھا ۔ فارسی پر یہ اعتراض تھا کہ ” فارسی کلاسیکل زبان نہیں اور دوسری زبانوں کی طرح اس میں قوت متخیلہ کو ترتیب دینے کی قابلیت نہیں اور نہ اس کے لٹریچر میں علوم وفنون کا ذخیرہ ہے ۔ “ (۱۶۶) مولا نا شبلی نے اس پر تقریر کی اور اس خوبی سے اعتراضات کو رد کیا کہ لوگ حیران و ششدر رہ گئے ۔ سامعین کا یہ حال تھا کہ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس وقت بنگال کے لفٹنٹ گورنر سر ایڈورڈ برن بھی اجلاس میں موجود تھے ۔ انھوں نے اپنی انگریزی تقریر میں مولانا کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ۔ ” مجھ میں اتنی قابلیت نہیں کہ مولانا شبلی کی طرح پر تاثیر تقریر کر سکوں ۔ “ ( حیات شبلی ۔ ۱۷۸ )
نومبر ۱۸۹۴ میں یونین میں اس موضوع پر مباحثہ تھا کہ کیا ہمارا گزشتہ طرز تعلیم موجودہ طرز تعلیم سے بہتر تھا ۔ مولانا نے بھی تقریر کی ۔ انھوں نے موافقت کا پہلو اختیار کیا ۔ یہ تقریر اتنی مؤثر ہوئی کہ طالب علموں نے عموماً مقرر کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ سید محمود نے بھی ان کے حق میں رائے دی ۔ (۱۶۰) اسی طرح ایک بار یونین میں یہ بحث تھی کہ جمہوری طرز حکومت بہتر ہے یا شخصی ۔ جلسہ میں سرسید بھی موجود تھے ۔ مولانا نے جمہوری طرز حکومت کی تائید کی اور اس موضوع پر ایسی مدلل تقریر کی کہ تمام طالب علموں نے ان کی موافقت میں رائے دی (۱۶۱) یہ بات آج کچھ عجیب نہیں معلوم ہوگی لیکن اگر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues