شبلی اور علی گڑھ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵
یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ ۱۸۹۲ء میں پیش آیا تھا تو مولانا کی تقریری صلاحیت کی داد دینی پڑتی ہے۔ مولانا شبلی کی یہی سب خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے وہ علی گڑھ کی فضا پر چھا گئے۔ شبلی کا علی گڑھ جانا محض ایک معمولی واقعہ نہ تھا۔ بلکہ یہ جدید و قدیم کا اتصال تھا۔ شبلی گویا قدیم کے ایک قابلِ اعتماد نمائندے تھے اور علی گڑھ اپنے وقت میں جدید کی نمایاں ترین علامت تھا ــ اس اتحاد و اتصال سے دونوں کو زبردست فائدے ہوئے۔
شبلی کا علی گڑھ سے وابستہ ہونا سرسید کے لئے زبردست تقویت کا باعث بنا۔ سرسید نے کالج کے چندہ کے لئے ۱۸۸۲ء میں حیدر آباد کا پہلا سفر کیا تھا۔ یہ سفر ایک وفد کی شکل میں تھا جس میں تحریک کے بہت سے ممتاز لوگ شریک تھے۔ ان میں سے ایک مولانا شبلی بھی تھے۔ مولانا عبد الحلیم شرر لکھتے ہیں کہ مولانا شبلی کے اس سفر میں شمولیت سے یہ خیال لوگوں میں پھیل گیا تھا کہ وہ سرسید کے گروہ کے ایک نامور بزرگ اور ان کی فوج کے ایک نامی پہلوان ہیں۔ (۱۸۳)
شبلی کی وجہ سے کالج کے حلقہ میں اعلیٰ ترین سطح پر علومِ اسلامیہ کی نمائندگی ممکن ہوسکی۔ ۱۸۸۷ء میں لکھنؤ میں ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر سرسید نے اپنے دائرہ کے مختلف اہلِ علم کو اسلامی تعلیم کے کسی نہ کسی پہلو پر لکھنے کی فرمائش کی۔ مولانا شبلی نے ”مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم“ کا عنوان اپنے لئے پسند کیا۔ جب یہ مضمون لکھنؤ کے اجلاس میں پڑھا گیا تو مسلمانوں کے سامنے اپنے اسلاف کے عظیم کارناموں کا نقشہ پھر گیا اور سارے ملک میں اس خطبہ کی دھوم مچ گئی۔ مولانا عبد الحلیم شرر لکھتے ہیں ــ ”لیکچر مسلمانوں کی نظر میں بالکل نئی اور دلچسپ چیز تھا۔ چنانچہ جب اس پر دلگداز اندازِ میں ریویو ہوا ہے تو کوئی نہ تھا جو اس کے دیکھنے کا مشتاق نہ ہو گیا ہو“ (۱۷۲)
اس زمانہ میں یورپ کی اس ”علمی تحقیق“ کا غلغلہ تھا کہ مسلمان اتنے وحشی اور جاہل تھے کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں انہوں نے مصر اور اسکندریہ فتح کیا تو وہاں کے مشہور یونانی کتب خانہ کو جو بطلیموس کے زمانہ سے قائم تھا جلا کر خاک کر دیا اور دنیا گزشتہ انسانی دماغوں کے ورثہ سے محروم ہوگئی۔ یہ منجملہ ان واقعات میں سے تھا جس کی وجہ سے مسلمان اپنے کو احساسِ کمتری میں مبتلا پاتے تھے۔ مولا نا شبلی نے ۱۸۹۲ء میں اس کی تردید میں کتب خانہ اسکندریہ پر ایک مضمون لکھا اور ثابت کیا کہ یہ مسلمانوں سے صدیوں پہلے برباد ہو چکا تھا۔ اور مسلمانوں کی فتح مصر کے زمانہ میں اس کا وجود بھی نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues