شبلی اور علی گڑھ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۷
”یہ ایسے عمدہ امر کی تحریک ہے جس کی بہت ضرورت ہے۔ تمام علمی مجلسیں اس امر کے دریافت کرنے کی محتاج ہیں۔ مگر بحث اس میں ہے کہ اس کو لکھے گا کون۔ ہمارے ہاں ایک مثل ہے ”جو بولے وہی گھی کو جادے“۔ پس مولوی شبلی ہی اس کو لکھیں گے۔
” تمام مجمع سے بالاتفاق یہی آواز آئی کہ مولوی شبلی ہی لکھیں گے۔ مولوی شبلی ہی لکھیں گے “ روداد کانفرنس الہ آباد ص ۱۹ بحوالہ حیات شبلی۔ ۱۷۵ ” محمدن اینگلو اور ینٹل کالج میگزین “ نے ۱۸۹۲ء میں ایک علمی رسالہ کی شکل اختیار کی تو اس کے اردو حصے کی ایڈیٹری مولانا شبلی کے سپرد کی گئی۔
بحیثیت استاد مولانا کے سپرد جو مضامین تھے ان میں بھی مولانا نے اپنی قابلیت کا سکہ جما دیا تھا مسعود علی صاحب محوی جو حیدر آباد دکن میں جج تھے اور اس کے بعد دارالترجمہ کے رکن مقرر ہوئے۔ مولانا کے زمانہ میں علی گڑھ کے طالب علم تھے۔ وہ اپنے مجموعہ کلام کے مقدمہ میں لکھتے ہیں : ” علی گڑھ کالج کے بی اے کلاس کے فارسی نصاب میں قاآنی کے چند قصائد داخل تھے۔ مولانا شبلی فارسی کے ماہر و دبیر تھے۔ مولانا مرحوم ان نادر الوجود استادوں میں تھے جو نہ صرف کسی مضمون کو پڑھا اور سمجھا دینے بلکہ اس مضمون کے ساتھ شاگردوں میں حقیقی دل چسپی پیدا کرنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ (۱۸۲) مولا نا حبیب الرحمن خاں شروانی فرماتے ہیں:
” مجھ کو بھی اگر کچھ لکھنا آیا تو انھیں صحبتوں کے اثر سے۔ تاریخ و ادب فارسی کا ذوق یہیں نشوونما پذیر ہوا ہے “ (۱۵۲)
مقررہ درس کے علاوہ بھی طلبہ کے لئے کچھ کرتے رہتے تھے۔ مثلاً کالج میں عربی زبان کی ترقی اور طلبہ میں عربی تحریر و تقریر کا شوق دلانے کے لئے انھوں نے ایک لجنتہ الادب کی بنیاد ڈالی۔ اسی طرح اخوان الصفا کے نام سے ایک انجمن قائم کی جو اردو تحریر و تقریر کی مشق کے لیے تھی ۔ دونوں انجمنوں میں طلبہ دل چسپی سے حصہ لیتے تھے۔ (۶۰-۱۵۹)
۱۸۹۲ء میں مولانا شبلی نے ترکی اور مصر و شام کا ایک علمی سفر کیا۔ یہ سفر بھی علی گڑھ کالج کی شان بڑھانے کا سبب بنا۔ کیوں کہ بقول مولانا سید سلیمان ندوی اس وقت ” کالج کے ایک پروفیسر کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا سفر تھا“ (۲۱۸) چنانچہ واپسی کے بعد ، مولانا کے اعزاز میں مختلف تقریبات
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues