Al-Risala · September 1986 · page 38

شبلی اور علی گڑھ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۸

اور جلسے کئے گئے ۔

اس سفر میں حکومت ترکی نے آپ کو تمغہ مجیدی عطا کیا جو ترکی کا ایک اعلیٰ اعزاز تھا۔ اس کے بعد جنوری سنہ 1892ء میں حکومت برطانیہ نے آپ کو شمس العلماء کا خطاب عنایت کیا۔ یہ اس زمانہ کے لحاظ سے ایک خاص واقعہ تھا۔ نیز یہ پہلا واقعہ تھا جب کہ کالج کے کسی استاد کو علمی خطاب سے نوازا گیا ۔ چنانچہ اس کے بعد کالج میں متعدد جلسے ہوئے اور سرسید اور تمام لوگوں نے زبردست خراج عقیدت مولانا کی خدمت میں پیش کیا۔ (۲۳۸)

مولانا شبلی کی وجہ سے کالج کو جو علمی وقار اور مادی فائدہ حاصل ہوا، اس کا اعتراف سرسید نے ان الفاظ میں کیا ہے :

" اس میں کچھ شبہ نہیں کہ ہمارے کالج کے پروفیسر مولوی محمد شبلی نعمانی نے اپنی تصنیفات سے ملک کو بہت کچھ فائدہ پہنچایا ہے ۔ المامون ، سیرۃ النعمان کتب خانہ اسکندریہ اور الجزیہ بے مثل اور بے نظیر کتابیں ہیں۔ اگر وہ نعوذ باللہ اپنے رسالہ الجزیہ کی نسبت مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ کہیں کہ فالتوابسورة من شدة تو کچھ تعجب نہ ہوگا۔ جزیہ کا ایسا بیجا اور غلط الزام اسلام پر تھا جس کا آج تک کسی نے ایسی عمدگی سے حل نہیں کیا تھا۔ بایں ہمہ انھوں نے مثل علمائے متقدمین با خدا کوئی ذاتی فائدہ ان کتابوں کی تصنیف سے نہیں اٹھانا چاہا بلکہ بالکلیہ مدرسۃ العلوم کو دیدیا یہ " (۳۲ - ۲۳۳) اس زمانہ میں مولانا شبلی کی کتابوں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ تین تین ماہ میں ایک ایڈیشن ختم ہو جاتا تھا ۔ مگر مولانا نے علی گڑھ کے زمانہ قیام میں اپنی تصانیف سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا اور تمام کتابیں کالج کی نذر کر دیں (۵۹ - ۱۵۸)

اس کے علاوہ بعض ریاستوں سے کالج کو امداد ملنے میں مولانا کی ذات معاون بنی۔ علی گڑھ کی تاریخ میں دینی رنگ پیدا کرنے والے سب سے پہلے مولانا شبلی تھے۔ مولانا شبلی دینی اعتبار سے علی گڑھ کو کیا سبق دینا چاہتے تھے ، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوگا۔ ۱۸۹۴ میں جب وہ ترکی گئے تو وہاں انھیں ایک کالج (مکتبہ ملکیہ) میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اتفاق سے اسی دوران میں ظہر کا وقت آگیا۔ اس وقت کوٹ پتلون میں ملبوس نوجوان ترک فورا نماز کی تیاری میں لگ گئے۔ اس واقعہ کا والہانہ انداز میں ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page