Al-Risala · September 1986 · page 48

شبلی اور علی گڑھ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۸

ہے ۔ بیرونی دباؤ کا نام بھی نہیں، مغرب کی نماز، سبحان اللہ! کیا شان و شوکت سے ہوتی ہے کہ بس دل پھٹ جاتا ہے۔ خود سید صاحب بھی شریک نماز ہوتے ہیں اور چوں کہ وہ عامل بالحدیث ہیں، آمین زور سے کہتے ہیں۔ ان کی آمین کی گونج مذہبی جوش کی رگ میں خون بڑھا دیتی ہے۔ میں کبھی کبھی اسلام پر لکھ کر دیتا ہوں ۔ مسجد بننے کی تیاری ہے۔ سید محمود صاحب کی سرگرمی نے اس کے پیمانہ تعمیر کو نہایت وسیع کر دیا ہے ..... سید محمود صاحب خود ہاتھ میں پھاوڑا لیں گے اور مسجد کی نیو کھودیں گے ...... مجھے کو اس بات کا فخر حاصل ہے کہ اس نئی زندگی کے پیدا ہونے میں میرا بھی حصہ ہے اور اس جوش مذہبی کا براہینگیختہ کر نا میری قسمت میں بھی تھا ۔ (۱۵۰)

کالج کے لئے ایک یونیفارم کا تصور سب سے پہلے مولا ناشبلی ہی نے دیا تھا۔ قسطنطنیہ کے سفر سے اپنے والد ماجد کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں :

”یہاں کے کالجوں کی ایک بات مجھ کو بہت پسند آئی ہر کالج کا ایک خاص لباس ہے اور کوٹ پر گریبان کے قریب کالج کا نام لکھا ہونا ہے۔ ہمارے کالج میں یہ طریقہ کیوں نہیں اختیار کیا جاتا۔ سید صاحب قبلہ بغیر کسی پس و پیش کے کالج کا ایک خاص لباس قرار دیں تو بہت اچھا ہے“۔ مولانا حالی کے بیان کے مطابق سرسید نے اس تجویز کو پسند کیا اور اسی کے مطابق کالج میں یونیفارم کا طریقہ رائج ہوا۔

اسی طرح قسطنطنیہ کے سفر نے طلبہ میں معاشرت کی یکسانی پر زور دیا۔ سفر نامہ میں لکھتے ہیں: ” ہر کالج میں غریب طالب علموں کی متعدد تعدا د ہے اور دولت مند ترکوں کی طرف سے ان کو اس قدر امداد دی جاتی ہے کہ وہ کالج کے تمام مصارف ادا کر سکتے ہیں ۔ اس کا یہ اثر ہے کہ کالج کے احاطہ میں جا کر کوئی شخص تمیز نہیں کر سکتا کہ فلاں طالب علم غریب اور کم مقدور ہے۔ طلبہ کی یکساں حالت ان میں اتحاد اور قومیت کا نہایت قومی خیال پیدا کرتی ہے۔ اور غرباء کو اعلیٰ درجہ کی معاشرت حاصل ہوتا ان میں حوصلہ مندی اور بلند نظری پیدا کرتا ہے۔ بورڈنگ کا یہ طریقہ دیکھ کر مجھ کو اپنا مدرسۃ العلوم یاد آتا تھا اور میں اس کے بورڈنگ کے اختلاف مراتب پر افسوس کرتا تھا ..... میں علانیہ کہتا ہوں کہ ہمارے قومی کالج میں جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ تمام طالب علموں کا لباس وضع، خوراک، مکان ، فرنیچر کلیۃً ایک کر دیا جائے اور جو مختلف سطحیں آج کالج میں قائم ہیں ، بالکل مٹا دی جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page