Al-Risala · September 1986 · page 41

شبلی اور علی گڑھ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۱

اگر یہ نہیں تو کالج میں قومیت کی روح نہیں ہے۔ (۲۰۲)

جس طرح شبلی نے علی گڑھ کو بہت کچھ دیا ، اسی طرح خود شبلی کو بھی علی گڑھ سے بہت کچھ ملا۔ اور انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کا اعتراف کیا جائے۔

مولانا شبلی ایک خالصتاً قدیم طرز کے عالم تھے۔ چنانچہ تعلیم کے بعد ابتدائی زمانہ میں اس قسم کے مشاغل میں دل چسپی لینا شروع کیا جو اس زمانہ میں ان کے جیسے لوگوں کا عام مذاق تھا۔ مثلاً خاص طرح کی منطقی بحثیں اور مناظرہ وغیرہ۔ مولانا کی کتاب اسکات المعتدی اسی زمانہ کی یادگار ہے۔ معاشی مسائل بھی مختلف سمتوں میں کھینچتے رہے۔ کبھی وکالت کا امتحان دیا ، کبھی ملازمت کی ، کبھی نیل کی تجارت اور زمیندار ی کا کام دیکھا (۹۶) علی گڑھ سے تعلق نے ایک طرف مولانا کو موقع دیا کہ وہ معاش کے لئے سوچنا چھوڑ دیں۔ دوسری طرف یہاں کے ماحول نے انہیں وقت کی علمی ضرورت کا احساس دلایا اور ان کی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر کام کی طرف موڑ دیا۔

مولانا شبلی نے جس زمانہ میں علی گڑھ میں قدم رکھا یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ مسلمانوں کے اوپر سیاسی غلبہ حاصل کر چکا تھا۔ اس غلبہ کو مزید ذہنی تقویت پہنچانے کے لئے یورپ کے اہل قلم یہ طریقہ اختیار کئے ہوئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی تاریخ اور ان کے علوم کو بگاڑ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کریں۔ مسلمان اب تک اپنی تاریخ پر ناز کرتے چلے آرہے تھے۔ اس کے جواب کے لئے مغربی مصنفین نے یہ کیا کہ اسلام، سلاطین اسلام اور علوم اسلامیہ کی طرح طرح کی برائیاں لکھ کر پھیلا نا شروع تاکہ مسلمانوں کی نئی نسل خود اپنی قوم سے نفرت کرنے لگے اور ان کے قومی غرور کو ایسا صدمہ پہنچے کہ ان کے دماغی قوئی ہمیشہ کے لئے مضمحل ہو جائیں۔

علی گڑھ کی فضا میں مولانا شبلی کو وقت کے اس فتنہ کا احساس ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضامین اور کتابوں نیز گفتگوؤں اور تقریروں میں ایسی اعلیٰ علمی سطح پر اس کا رد پیش کیا کہ مستشرقین کا سارا غبارہ پھٹ گیا۔ ان کا یہ جذبہ یہاں تک بڑھا کہ قدیم کتب اسلامیہ سے استفادہ کے لئے انہوں نے اسلامی ممالک کے سفر کئے تا کہ وہ کتابیں جو ابھی تک چھپ نہیں سکی ہیں ان کے قلمی نسخوں کو دیکھ کر اپنی تصنیفات کے لئے مواد حاصل کریں۔ حالانکہ یہ بھی زمانہ کی نیرنگی ہے کہ جن نادر کتابوں کی خاطر مولانا نے سفر کی محنت اٹھائی تھی وہ بعدکو انہیں کے زمانہ میں خود مخالفین کے ہاتھوں چھپ کر عام ہو گئیں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page