شبلی اور علی گڑھ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶
علی گڑھ میں عمومی طور پر مولانا شبلی کو جو کچھ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک چیز خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔ یہ شبلی اور آرنلڈ کے تعلقات ہیں۔ پروفیسر آرنلڈ ایک نہایت لائق انگریز علم تھے۔ دونوں کے علمی ذوق نے ایک دوسرے کو بے حد قریب کر دیا تھا۔ مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی لکھتے ہیں: "بڑی خوش قسمتی علامہ شبلی کی یہ تھی کہ اس عہد میں پروفیسر آرنلڈ سا عالم دوست استاد کالج میں تھا۔ یہ دونوں دلدا دگان علم باہم ملے اور اس طرح ملے کہ جس طرح مختلف اللون نور کی شعاعیں باہم مل کر عالم کی روشنی کا باعث بنتی ہیں۔ پروفیسر آرنلڈ نے علامہ شبلی کو جدید اصول سے آگاہ کیا۔ یہ بتا یا کہ جدید علمی مجلس کے کیا ساز و سامان ہیں۔ قدیم علوم پر کیا کیا اعتراض اور حملے ہیں۔ علامہ شبلی کی صداقت اور قوت دماغی یہ تھی کہ وہ جدید اصول کے طمطراق سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ ان پر اطمینان سے غور کیا۔ .... پروفیسر آرنلڈ نے عربی کا استفادہ علامہ شبلی سے کیا اور یہ دیکھا کہ پرانی زمینوں میں بھی جواہر آب دار موجود ہیں۔ اس واقفیت کا نتیجہ پروفیسر آرنلڈ کی بے نظیر تصنیف پر یچنگ آف اسلام کی صورت میں عیاں ہوا۔ علامہ شبلی نے پروفیسر آرنلڈ سے کسی قدر فرینچ زبان سیکھی تھی۔ علامہ ممدوح کی زندگی کا یہ دور بہت کچھ سبق آموز اور ایک بڑے تعلیمی مسئلے کا حل کرنے والا ہے۔ (۱۴۰)
علی گڑھ کے تعلق سے جدید تعلیمی ضرورت کا احساس جس کی طرف مولانا شحر وانی نے اشارہ کیا ہے وہ اس وقت اور زیادہ پختہ ہو گیا جب مولانا شبلی اسلامی ممالک کے سفر سے واپس آئے۔ یہ سفر آپ نے علی گڑھ کے زمانہ ملازمت میں کیا تھا۔ اور راستہ میں پورٹ سعید تک آرنلڈ بھی مولانا کے ساتھ تھے۔ اب مولانا کو پختہ یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لئے نئے نظام تعلیم کی شدید ضرورت ہے۔
یہاں ہم مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ مستعار لیں گے:
" مولانا شبلی کے نزدیک مسلمانوں کی ترقی کے لئے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ مسلمانوں کی تعلیم کا ایسا نصاب ترتیب دیا جائے جس میں ایک طرف یورپ کے تمام جدید علوم و فنون کی تعلیم ہو اور دوسری طرف خالص اسلامی علوم کی ۔ اور طریقہ تربیت اور درس گاہوں کا ماحول تمام تر مذہبی ہو۔ اگر ساری قوم کی تعلیم کا یہ بند وبست نہ ہو تو کم از کم عربی درس گاہوں میں ایسی اصلاح کی جائے کہ یونان کے بوسیدہ علوم کا سارا دفتر ہٹ کر اس کی جگہ نئے علوم کی تعلیم لے لے اور خالص مذہبی علوم اپنی جگہ پر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues