شبلی اور علی گڑھ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۴
رہے ہیں اور نصاب میں متاخرین کے شروح و حواشی کے بدلے قدماء کی اصل کتابیں جو فن کی جان ہیں پڑھائی جائیں ۔ درس گاہیں عالی شان ، کمرے صاف ستھرے اور تربیت ایسی ہو کہ طلبہ میں اولوالعزمی، حوصلہ مندی ، بلند نظری اور خودداری پیدا ہو۔ لیکن یہ چیز ان کو نہ قسطنطنیہ میں ملی ، نہ شام میں اور نہ مصر میں ۔ سفر نامہ میں لکھتے ہیں —" اس سفر میں جس چیز کا تصور میری تمام مسرتوں اور خوشیوں کو برباد کر دیتا تھا وہ اسی قدیم تعلیم کی ابتری تھی ۔ (سفر نامہ روم و مصر و شام) مولانا شبلی کے اس تجربہ اور مطالعہ نے انھیں ایک نئے تعلیمی تصور تک پہنچایا۔ یہ کہ ایسی درس گاہیں قائم کی جائیں جہاں جدید و قدیم دونوں کی تعلیم کا انتظام ہو۔ مولانا سید سلیمان ندوی آگے چل کر لکھتے ہیں :
"مولانا شبلی کا یہی احساس تھا جو ندوۃ العلماء کے قیام کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء کے نظام و دستور العمل کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس نے دارالعلوم کا یہ مرقع (مسودہ) جس کو سیاح روم و شام نے اپنے قلم سے کھینچا ہے، دیکھا ہے۔ اس کو نظر آئے گا کہ روم و شام میں جو کچھ محسوس ہوا ہے اس کی تصویر ہندوستان میں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ " (۲۱)
علی گڑھ سے مولانا شبلی کا تعلق ۱۸۸۳ء میں قائم ہوا اور صدی کے آخر تک جاری رہا ۔ اس مدت میں مولانا کا تجربہ اور مطالعہ ان پر واضح کر چکا تھا کہ قوم کی اصلاح و ترقی کے لئے کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف وہ خود ایسی علمی اور تاریخی کتابیں تصنیف کرنا چاہتے تھے جو قوم کے لئے ذہنی انقلاب کی بنیاد بن سکیں۔ دوسری طرف ان کے ذہن میں کم از کم دو ایسے اداروں کا نقشہ آ چکا تھا جو اگلی نسل میں شبلی جیسے انسانوں کا تسلسل باقی رکھنے والا ہو۔ ایک ایسی درس گاہ جو جدید و قدیم کی تعلیم کا مرکز ہو۔ اور دوسرے ایک ایسا تصنیفی ادارہ جو اسلامی موضوعات کے لئے اعلیٰ درجہ کے اہلِ قلم تیار کرے ۔ ان کے پہلے خواب کی تعبیر دارالعلوم ندوۃ العلماء تھا اور دوسرے کی تعبیر دارالمصنفین۔ یہ دونوں ادارے آج بھی قائم ہیں۔ اگر چہ یہ کہنا مشکل ہے کہ انھوں نے شبلی کے مطلوب انسان تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مولانا شبلی اب جو کام کرنا چاہتے تھے اس میں کالج کی ملازمت ایک رکاوٹ تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ درس و تدریس کی ذمہ داریوں سے یکسو ہو کر مندرجہ بالا قسم کے کام پر لگ جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues