شبلی اور علی گڑھ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۵
خوش قسمتی سے حیدر آباد نے ان کے لئے یہ موقع فراہم کر دیا۔ مولوی سید علی بلگرامی اور نواب وقار الملک کی کوششوں سے ریاست نے ان کے لئے ایک مستقل وظیفہ جاری کر دیا تاکہ وہ یکسو ہو کر اپنے مشن کی تکمیل میں لگ جائیں۔ اس سلسلے میں حیدر آباد کی طرف سے جو فرمان جاری ہوا اس کے ابتدائی الفاظ یہ تھے:
مولوی شبلی صاحب جو اس وقت علی گڑھ کالج میں عربی اور فارسی کے پروفیسر ہیں، ایک نہایت قابل اور لائق شخص ہیں اور تصنیف میں ایک خاص مذاق رکھتے ہیں۔ اب ان کی تمنا ہے کہ اپنے پورے وقت کو تصنیف کے کام میں صرف کریں اور معمولی درس و تدریس کو ترک کر دیں۔ مولوی صاحب موصوف کو تصنیف کے کام میں فارغ البالی کے ساتھ مصروف کرنا ایک قومی کام ہے اور اس وقت کوئی عالم ہندوستان میں ایسا نہیں ہے جو پرانے ذخیروں سے اس طرح کام لے“۔
اس تمہید کے بعد فرمان میں کہا گیا تھا کہ چونکہ سرکار سے ایسے شخص کی اعانت ضروری ہے اس لئے ان کے لئے وظیفہ جاری کرنے کی منظوری دی جاتی ہے۔ یہ وظیفہ ابتداءََ سوروپے ماہوار تھا اور آخر میں بڑھا کر تین سو کر دیا گیا۔
شبلی نے علی گڑھ میں جو کام کیا اس کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور چیز کو شامل کیا جائے۔ اس کے بغیر یہ مطالعہ خالص علمی اعتبار سے ناقص رہے گا۔ اور وہ ہے وہ زمانہ جس میں شبلی کو کام کرنے کا موقع ملا۔
شبلی کا زمانہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ہندوستان اس سے بہت مختلف تھا جو آج ہمیں نظر آتا ہے۔ اس وقت مسلم غلبہ کا تسلسل نوابوں اور زمینداروں کی سطح پر بدستور جاری تھا۔ اردو ملک کی زبان تھی، حتی کہ اس وقت کے بیرونی حکمران (انگریز) بھی عام طور پر اردو کو سمجھتے تھے۔ ماضی کے نتیجہ میں شعر و شاعری کی عظمت ابھی تک لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی تھی۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے اسباب تھے جنہوں نے شبلی کو وہ اعلیٰ مواقع کار دیئے جن کی مثالیں ان کی زندگی میں ملتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ایک اہم بات یہ تھی کہ قدیم روایات کے نتیجہ میں ابھی تک قدر دانی کا ماحول موجود تھا۔ ایک شخص کے اندر جوہر دیکھ کر وقت کے بڑے لوگ کھلے طور پر اس کا اعتراف کر سکتے تھے۔ یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو آج کل بالکل ختم ہو چکی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج شبلی جیسی شخصیتیں بھی کہیں نظر نہیں آتیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues