Al-Risala · September 1986 · page 46

شبلی اور علی گڑھ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۶

مضمون کو ختم کرتے ہوئے میں کہوں گا کہ شبلی کو علی گڑھ کا بہترین انتخاب کہا جاسکتا ہے۔ اسی طرح شبلی کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان کے سولہ سال جو علی گڑھ میں گزرے وہ ان کی زندگی کے بہترین سال تھے۔ اس طرح دونوں کو وہ چیز ملی جس کی دونوں میں سے ہر ایک کو ضرورت تھی۔ شبلی نے علی گڑھ کے اوپر اسلام کی تاریخی اور علمی عظمت قائم کی جس کا وہ اس وقت بے حد محتاج تھا۔ اسی طرح علی گڑھ نے شبلی کو جدید کا عرفان دیا جس کے نتیجہ میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے درمیان وہ اسلامی شخصیت ابھر سکی جس کو مولانا سید سلیمان ندوی نے ”عہد جدید کا معلم اول“ کا لقب دیا ہے۔ شبلی اور علی گڑھ کے دو مختلف دھاروں کا ملت اس امتزاج کو وجود میں لاسکا جس نے اسلامی تاریخ پر اعلیٰ ترین کتابیں تخلیق کیں جس نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی بنیاد رکھی جو دار المصنفین کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر جس نے قوم کی اگلی نسلوں کو وہ ہیجان اور شعور دیا جو آج بھی جدید پر قدیم کو غالب کرنے کی امانت اپنے سینوں میں لئے ہوئے ہے۔ جو زمانہ کی وقتی قدروں پر اسلام کی دائمی قدروں کو بالا کر نے کے لئے بے چین ہے۔ جس طرح علی گڑھ زندہ ہے، اسی طرح شبلی بھی زندہ ہے اور دونوں پھر اسی طرح ایک دوسرے سے ملیں گے جس طرح وہ ماضی میں باہم ملے تھے۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے اور تاریخ کا فیصلہ بہر حال پورا ہو کر رہتا ہے۔ ـ نوٹ: ”شبلی ڈے“ کے موقع پر ۳ مارچ ۱۹۶۸ کو یونین ہال مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پڑھا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page