Al-Risala · October 1986 · page 10

عین وقت پر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۰

عین وقت پر

امتحان کسی طالب علم کی زندگی کا سب سے زیادہ نازک لمحہ ہوتا ہے ۔ مگر یہی نازک لمحہ وہ لمحہ ہے جب کہ کسی طالب علم کی زندگی کا آخری فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ جو طالب علم امتحان کی نزاکتوں کو سوچ کر امتحان دینے سے رک جائے اس نے اپنے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے برباد کر لیا ۔ وہ عین اسی وقت فیل ہو گیا جب کہ اس کو پاس ہونے کا سرٹیفکٹ حاصل کرنا چاہیے تھا ۔

ایسا ہی کچھ معاملہ مومن و مسلم کا بھی ہے۔ قرآن سے یہ ثابت ہے کہ کسی شخص کے لیے جنت کا فیصلہ اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک ایسا نہ ہو کہ اس کو آزمائش میں ڈالا جائے اور وہ آزمائش میں پورا اترے ۔ آزمائش کے لمحات آنے پر اپنے آپ کو اس سے بچانا ایسا ہی ہے جیسے کسی طالب علم کے لیے امتحان کا انتظام کیا جائے اور وہ اس کی سختیوں سے گھبرا کر بھاگ کھڑا ہو ۔ ایک شخص معمول کے حالات میں حق کا ساتھ دے رہا تھا اور جب کوئی مشکل مرحلہ آیا تو وہ حق کو چھوڑ کر اس سے الگ ہو گیا ۔ ایک شخص مزاج کے موافق صورت حال میں اسلامی بنا ہوا تھا اور جب مزاج کے خلاف صورت حال سامنے آئی تو وہ اچانک غیر اسلامی بن گیا ۔ ایک شخص معروف نقشہ میں دین داری دکھا رہا تھا مگر جب کوئی غیر معروف نقشہ سامنے آیا تو وہ دین دار بننے کے لیے تیار نہ ہوا ۔ ایک شخص " ساحل " پر اسلام کی باتیں کر رہا تھا اور جب " دریا " کی موجوں سے سابقہ پیش آیا تو وہ اسلامی باتیں بھول کر بالکل مختلف انسان بن گیا ۔

ایسی تمام مثالیں آزمائش میں پورا نہ ہونے کی مثالیں ہیں ۔ ایسے تمام مواقع وہ مواقع تھے جب کہ اس کا خدا چاہتا تھا کہ اس کی جانچ کر کے اس کو جنت کے باغوں میں داخل کر دے ۔ مگر عین وقت پر وہ جانچ میں پورا نہ اترا ۔ اس کا رب اس کے پاس آیا مگر وہ پیٹھ پھیر کر اپنے رب سے دور چلا گیا ۔

آہ وہ انسان ، جس کے سامنے جنت کا دروازہ کھولا گیا ۔ مگر عین وقت پر وہ جنت میں داخل ہونے سے باز رہا ۔ وہ عین اس وقت ناکام ہو گیا جب کہ اس کو کامیاب ہونے کا ثبوت دینا چاہیے تھا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page