سرکشی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۱
سرکشی
ایک لطیفہ ہے ۔ ایک مسجد کے امام صاحب تھے ۔ ان کے گھر پرمحلہ کے بنیا کے یہاں سے سامان آیا کرتا تھا ۔ گھر والے قرض پر سامان منگاتے رہے یہاں تک کہ رقم زیادہ ہو گئی ۔ بنیانے کہا کہ پہلے پچھلا قرض ادا کرو اس کے بعد اور سامان لے جاؤ ۔
امام صاحب بنیا کی اس گستاخی پر خفا ہو گئے ۔ جمعہ کے روز جب محلہ کے تمام لوگ مسجد میں جمع تھے ، امام صاحب نے کہا کہ بھائیو ، میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں اس کو سنو تمہارے محلہ کا بنیا کافر و مشرک ہے ۔ آپ میں سے کوئی شخص اس کے یہاں سے سامان نہ خریدے ۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن و حدیث کے نصوص پیش کیے اور کہا کہ ان آیتوں اور حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص کافر و مشرک ہو اس سے معاشی تعلق نہیں رکھنا چاہیے ۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے اٹھ کر کہا " امام صاحب ، بنیاتو ۲۵ برس سے یہاں دکان کر رہا ہے ، پھر آج ہی یہ مسئلہ آپ کیوں بیان کر رہے ہیں " امام صاحب نے بگڑ کر کہا : تم کافروں کے ساتھی ہو اس لیے تمہار ابھی بائیکاٹ ہونا چاہیے ۔
امام صاحب نے بظاہر قرآن و حدیث کے حوالے دیئے تھے ۔ مگر ظاہر ہے کہ اس خاص معاملہ میں خود امام صاحب غلطی پر تھے نہ کہ بنیا ۔ اس معاملہ میں اصلی اور بنیا دی بات صرف یہ تھی کہ امام صاحب کے اوپر بنیا کا حق تھا جس کو انھیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ ۔ اس کے سوا امام صاحب نے جو باتیں کہیں وہ سب اصل مسئلہ کی نسبت سے غیر متعلق (Irrelevant) تھیں ۔
یہی معاملہ آج کل مسلم معاشرہ کا ہو رہا ہے ۔ ایک مسلمان دوسرے شخص کا حق مارے گا ۔ اور جب حق دار اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرے گا تو وہ حق دار کو اس کا حق لوٹانے کے بجائے یہ کرے گا کہ وہ اس کو طرح طرح سے بدنام کرنا شروع کر دے گا ۔ حالاں کہ یہ سب غیر متعلق باتیں ہیں ۔ مذکورہ مسلمان کو سب سے پہلے غصب شدہ حق لوٹانا چاہیے ۔ اس کے بعد ہی وہ مزید جو کچھ کہنا چاہتا کہہ سکتا ہے۔ حق غصب کرنا غلطی ہے ۔ اور غصب کرنے کے بعد صاحب حق کے خلاف بدنامی کی مہم چلانا غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے ۔ یہ آدمی کے جرم کو بڑھاتا ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں اس کے جرم کو کم نہیں کرتا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues