واقفیت ضروری
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۲
واقفیت ضروری
قرآن میں قیامت کی عدالت کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ وہاں وہی شخص گواہی دے گا جو حق کی گواہی دے اور وہ اس کو جانتا ہو لا يملك الذين يدعون من دونه الشفاعة الا من شهد بالحق وهم يعلمون (الزخرف 86)
ی چیز دنیا کے معاملات میں بھی مطلوب ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا۔ اس میں ایک شخص گواہی دینے کے لیے آیا۔ آپ نے گواہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اگر تم نے سورج کی طرح دیکھا ہو تو گواہی دو ورنہ اس سے الگ رہو۔ (اذارایت مثل الشمس فاشهد وَالاّفدَع احکام القرآن للجصاص)
اسی بنا پر فقہاء نے شہادت کا یہ اصول وضع کیا ہے کہ علم گواہی کے لیے شرط ہے۔ کوئی شخص جس واقعہ کی گواہی دینا چاہتا ہے اس کو اس واقعہ کا ذاتی علم ہونا چاہیے۔ اگر وہ متعلقہ واقعہ کا ذاتی علم نہیں رکھتا تو نہ اس کو گواہی دینا چاہیے اور نہ اس کی گواہی کا شرعی طور پر کوئی اعتبار ہے ۔
اس سے معاملات میں شریعت کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص کو معاشرہ میں کس طرح رہنا چاہیے۔ اس کو کیا بات بولنا چاہیے اور کیا بات نہیں بولنا چاہیے ۔
ایک شخص کے کسی معاملہ میں آپ رائے دینے جارہے ہوں تو پہلے سوچ لیجیے کہ کیا آپ اس معاملہ میں ضروری واقفیت رکھتے ہیں۔ کیا اس معاملہ میں آپ کی واقفیت اس درجہ کو پہنچ چکی ہے کہ اس کو ذاتی علم کہا جاسکے ۔ اگر آپ مذکورہ معاملہ میں ذاتی علم کی حد تک واقف ہوچکے ہیں تو آپ اس معاملہ میں بولیے ورنہ خاموش رہیے ۔
مزید یہ کہ یہ بات کہ آپ مذکورہ معاملہ سے پوری طرح واقف ہیں یہ بھی اس وقت درست قرار پائے گا جب کہ وہ از روئے واقعہ بھی درست ہو۔ ورنہ خدا کی عدالت میں آپ مجرم قرار پائیں گے ، خواہ بطور خود اپنے آپ کو واقف کار سمجھ رہے ہوں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues