فخافوا ان یبطل الذنب العمل
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۳
ایمان وعمل صلی اللہ علیہ وسلم بیرون انه لا یضبر مع لا اله الا الله ذنب كما لا ینفع مع الشرك عمل فنزلت (اطیعوا الله واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالكم)
فخافوا ان یبطل الذنب العمل
(تفسیر ابن کثیر، الجزء الرابع صفحه ۱۸۱) علیہ وسلم کے اصحاب یہ خیال کرتے تھے کہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہ پہونچائے گا جس طرح شرک کے ساتھ کوئی عمل فائدہ نہیں پہونچاتا۔ اس پر یہ آیت اتری : اے ایمان والو تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو ( محمد ۳۳ ) اس کے بعد وہ ڈرنے لگے کہ گناہ عمل کو باطل کر دیتا ہے ۔
ایمان ایک قسم کا معاہدہ ہے ۔ بندہ جب ایمان کے الفاظ اپنی زبان سے دہراتا ہے تو وہ اللہ سے یہ اقرار کرتا ہے کہ وہ ایک اللہ کو اپنا بڑا مانے گا ۔ وہ اپنے قول و عمل میں صرف اس طریقہ کی پیروی کرے گا جو اللہ نے اپنے رسول کے ذریعہ بتایا ہے ۔ اب اگر ایسا ہو کہ ایک شخص معاہدہ کے الفاظ تو بول دے مگر اپنے حقیقی رویہ میں وہ اس کی اج اس ایام کا یہ کا ایک خلافت دوزی کرے تو اس کا معاہدہ اللہ کی نظر میں سکے گا۔
کی ایک اور مثال اس کے تار تار ہونے والی ہے جو کہ باطل ہو جائے گا۔ وہ اس کو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے۔
وہی ایمان قابلِ اعتبار ایمان ہے جو آدمی کو اپنی پکڑ میں لے لے ۔ آدمی بولے تو وہی بولے جو ایمان کے مطابق اسے بولنا چاہیے ۔ آدمی کرے تو وہی کرے جو ایمان کے مطابق اسے کرنا چاہیے اس کا ایمان اس کی زندگی کے اوپر حاکم بن جائے ۔ دنیا کا ہر معاہدہ اپنے عمل کے اعتبار سے جانچا جاتا ہے ۔ اگر معاہدہ اور عمل میں مطابقت ہے تو معاہدہ برقرار رہتا ہے ۔ ورنہ معاہدہ توڑ دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح ایمان کے معاہدہ کو بھی عمل کے اعتبار سے جانچا جائے گا ۔ اگر آدمی کا عمل اس کے ایمان کے مطابق ہے تو اللہ اس کے معاہدہ ایمان کو قبول کرے گا ۔ ورنہ وہ اس کو رد کر دے گا ۔ ایسا ایمان اللہ کے یہاں بے قیمت قرار پائے گا جس کے ساتھ عمل شامل نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues