Al-Risala · October 1986 · page 14

ایمان کی آزمائش

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴

ایمان کی آزمائش

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مومن بننے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں کہ آدمی اپنی زبان سے کہہ دے کہ ” میں مومن ہوں “۔ اقرارِ ایمان کے بعد حالات میں ڈال کر آدمی کی آزمائش کی جاتی ہے۔ اور جب آدمی آزمائش کے بعد اپنے ایمان پر قائم رہتا ہے تب اس کا ایمان اللہ کے نزدیک قابلِ اعتبار قرار پاتا ہے اور وہ حقیقی معنوں میں وہ مومن بنتا ہے جس کے لیے خدا نے جنت کے محل تیار کر رکھے ہیں۔ ایمان لانا دوسرے لفظوں میں اللہ کو اپنا بڑا بنانا ہے۔ آزمائش اسی لیے ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہو جائے کہ آدمی نے فی الواقع اللہ کو اپنا بڑا بنا لیا ہے۔ یا حقیقی طور پر اس کے نزدیک بڑا کوئی اور ہے اور وہ صرف زبان سے خدا کی بڑائی کے الفاظ بول رہا ہے۔ آدمی جب حالات کی آزمائش میں پڑتا ہے اس وقت فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے نزدیک بڑا (سپریم) کون ہے۔ کس کو وہ سب سے زیادہ لحاظ کے قابل سمجھتا ہے اور کس کو لحاظ کے قابل نہیں سمجھتا۔ حالات بار بار آدمی کو ایسے موڑ پر لاتے ہیں جہاں ایک طرف خدا کے تقاضے ہوتے ہیں اور دوسری طرف دوسری چیزوں کے تقاضے۔ ایک طرف خدا اور اس کا دین ہوتا ہے اور دوسری طرف آدمی کا مادی مفاد، اس کی دنیوی مصلحتیں، اس کے بیوی اور بچے، اس کا نفس اور اس کی انا، ایسے مواقع ہی پر معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کیا ہے اور کیا نہیں ہے ۔ اب ایک انسان وہ ہے جو تمام چیزوں کو نظر انداز کر کے خدا کو پکڑلے۔ اس کے مفادات مجروح ہوں، اس کے بچوں کی آرزوئیں ذبح ہو رہی ہوں، اس کی انا کا بت ٹوٹ رہا ہو مگر وہ ان سب کو نظر انداز کر دے اور خدا پر ایمان کا جو تقاضا ہے اس کو پوری طرح اختیار کر لے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو نازک مواقع پر خدا کی پکار کو بھول جائے۔ وہ ایمان کے تقاضوں کو نظر انداز کر کے اپنے مفادات کی طرف اور اپنے بیوی بچوں کی طرف جھک جائے۔ وہ اپنی ذاتی مصلحتوں کو بچانے کی خاطر خدائی مصلحتوں کو فراموش کر دے۔ یہ دوسری قسم کے لوگ خدا کے یہاں غیر مومن قرار دیئے جائیں گے، خواہ زبان سے انھوں نے کتنا ہی زیادہ اپنے مومن ہونے کا دعویٰ کیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page