تلبيس
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۵
تلبيس
قرآن میں یہود کو جن باتوں کا مجرم قرار دیا گیا ہے ان میں سے ایک تلبيس الحق بالباطل ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے :
ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق اور صحیح میں غلط کو نہ ملاؤ اور سچ کو نہ چھپاؤ وانتم تعلمون (البقرہ ۴۲) حالانکہ تم جانتے ہو ۔
لبس الشیء بالشیء کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ گڈ مڈ کرنا ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو ۔ ( لا تخلطوا الحق بالباطل )
قدیم عرب میں یہود کو مذہبی سیادت کا مقام حاصل تھا۔ مذہبی معاملہ میں کسی کو کچھ دریافت کرنا ہوتا تو وہ یہودی علماء کے پاس جاتا تھا ۔ چنانچہ پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا تو عرب لوگ یہودی عالموں کے پاس جاکر پوچھنے لگے کہ ان کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے ۔ پیغمبر اسلام کو ماننے سے یہود کی مذہبی بڑائی ختم ہوتی تھی ۔ اس لیے انھوں نے آپ کی مخالفت شروع کر دی ۔ غلط غلط باتیں پھیلا کر وہ لوگوں کو آپ سے بدظن کرنے لگے ۔ جب کوئی شخص ان کے یہاں جاکر آپ کے بارہ میں پوچھتا تو وہ ایسا کرتے کہ غیر متعلق باتیں چھیڑ کر لوگوں کو آپ کی طرف سے مشتبہ کر دیتے ۔ ایک مفسر کے الفاظ میں " ہر سائل کے دل میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ، آپ کی جماعت کے خلاف اور آپ کے مشن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیتے تھے ۔ کوئی الزام آپ پر چسپاں کر دیتے تھے ۔ کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیتے تھے جن سے لوگ شکوک و شبہات میں پڑ جائیں ۔ "
ایک چیز دلیل سے ثابت ہو جائے ، پھر بھی آدمی اس کو ماننا نہ چاہے تو اس کے بعد وہ یہ کرتا ہے کہ غیر متعلق باتیں چھیڑ کر اس کو بدنام کرنے کی مہم چلاتا ہے۔ جس چیز کو وہ دلیل سے غلط ثابت نہ کر سکا اس پر عیب لگا کر وہ اس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ مگر اس قسم کا فعل آدمی کے جرم کو بڑھاتا ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں اس کے جرم کو گھٹانے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues