Al-Risala · January 1986 · page 26

Moslim Informatie Centrum

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶

لاؤڈ اسپیکر دینا منظور کر لیں۔ شہر کے سنجیدہ افراد نے اس خط کو پسند کیا۔ اس کی فوٹو کاپی نکلوا کر مسلمانوں میں تقسیم کیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ خدا کے فضل سے مسلمانوں کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ وہ راضی ہوگئے کہ فجر کی نماز کی اذان لاؤڈ اسپیکر پر نہ دیں گے۔ اس طرح ایک فساد ہوتے ہوتے رہ گیا جس کے نتائج کا اندازہ کرنا قارئین کے لیے مشکل نہیں۔

۵- "الرسالہ" ماہ نومبر 1985 میں ایک مضمون بعنوان "نکاح اور طلاق" چھپا ہے۔ یہ مضمون ہر جگہ بہت پسند کیا گیا ہے۔ مختلف جرائد نے بھی اس کو اپنے صفحات میں شائع کیا ہے۔ مثلاً ہفت روزہ نئی دنیا ۱۱ نومبر ۱۹۸۵ اور ہفت روز بلٹز ۲ نومبر ۱۹۸۵ روزنامہ منصف حیدر آباد ۴ نومبر ۱۹۸۵، وغیرہ۔

۶- اسلامی مرکز کا خاص مقصد عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کرنا ہے۔ خدا کے فضل سے اس مقصد میں اسلامی مرکز کو اس حد تک کامیابی حاصل ہو چکی ہے کہ آج دنیا کے کسی بھی اسلامی ادارہ کے پاس عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود نہیں جو اسلامی مرکز کے پاس ہے۔ حتی کہ اب یہ حال ہو چکا ہے کہ جو شخص بھی اسلامی دعوت کو عصری اسلوب میں پیش کرنا چاہتا ہے وہ مجبور ہوتا ہے کہ اسلامی مرکز کی مطبوعات سے استفادہ کرے ۔ اگر چہ قوم کے اندر اخلاقی جرات کی کمی کی وجہ سے یہ کام زیادہ تر بلا اعتراف ہورہا ہے۔ اس کی مثالیں ہر روز مختلف انداز سے سامنے آرہی ہیں۔ مثال کے طور پر ہفت روزہ تعمیر حیات (لکھنؤ) کے ایک مضمون میں "الرسالہ" کی ایک لمبی عبارت شامل کر لی گئی ہے جب کہ اس میں نہ الرسالہ کا حوالہ ہے اور نہ اس کے لکھنے والے کی حیثیت سے صدر اسلامی مرکز کا نام درج ہے۔ تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الرسالہ جولائی ۱۹۸۵ صفحه ۲۴-۲۳ اور تعمیر حیات ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵ صفحه ۱۱ ۷- ڈاکٹر کرسٹین ڈبلیو ٹرال (برلن ۱۹۳۷) ایک جرمن مستشرق اور پادری ہیں۔ ان کی مرتب کردہ ۳۰ صفحات پر مشتمل ایک انگریزی کتاب چھپی ہے جس کا موضوع ہے ’ہندوستان میں اسلام‘ اس کتاب کے ایک باب کا عنوان ہے : دین کے بارہ میں تین ممتاز علماء کا خیال : The Meaning of Din; Recent views of Three Eminent Indian Ulama اس عنوان کے تحت محترم مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی کے دینی تصور کا ذکر

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page