Al-Risala · October 1986 · page 16

کم بولنا زیادہ سننا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶

کم بولنا زیادہ سننا

کتب رجل الی حکیم یقول : لِمَ تبخل ایک آدمی نے ایک دانا شخص کو لکھا کہ آپ علی الناس بالکلام۔ فقال الحکیم : إن لوگوں سے کلام کرنے میں کیوں بخل سے کام الخالق سبحانہ قد خلق لنا أذنين لیتے ہیں۔ دانا نے جواب دیا کہ خالق عز وجل ولسانا واحداً، النسماع أكثر مما نتکلم ، لَا نے ہمارے لیے دو کان پیدا کیے اور ایک أن نتکلم أكثر مما نسمع زبان بنائی۔ تاکہ ہم بولنے سے زیادہ سنیں ۔ نہ کہ سننے سے زیادہ بولیں ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے لیے درست طریقہ یہی ہے کہ وہ کم بولے اور زیادہ سنے۔ یہی کسی انسان کا صحیح ترین مزاج ہے اور اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے، زیادہ سننے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی زیادہ جاننے کی کوشش کرے۔ آدمی جتنا زیادہ جانے گا اتنا ہی زیادہ وہ صحیح بول پائے گا۔ اس کے برعکس زیادہ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کمتر معلومات کے باوجود بولنے لگے۔ ایسے شخص کا کلام سطحی ہو کر رہ جائے گا۔

آدمی جب دوسرے کی بات سنتا ہے تو اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسرے کے نقطہ نظر کو جاننے کے بعد وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اپنے نقطہ نظر کو زیادہ طاقت ور اور زیادہ مطابق واقعہ بنا کر پیش کر سکے ۔ سننے سے پہلے بولنے میں ایک طرفہ طور پر صرف اپنے ذہن کی رعایت ہوتی ہے۔ مگر جب آدمی دوسروں کی سن کر بولے تو اس کے کلام میں اپنے ساتھ دوسروں کی رعایت بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اس کا کلام دو طرفہ صداقت کا حامل بن جاتا ہے ۔ زیادہ سننا اور کم بولنا صرف ایک صفت نہیں ، وہ صفات کا مجموعہ ہے۔ وہ آدمی کی پوری شخصیت کی ایک علامت ہے۔ اس کا مطلب ہے تواضع، سنجیدگی، خوش اخلاقی، دوسروں کی رعایت اور معاملات کو گہرائی کے ساتھ دیکھنے کا مزاج۔ اس کے برعکس کم سننا اور زیادہ بولنا ایک ایسی شخصیت کی علامت ہے جس کے اجزار ہیں سطحیٹ ، بے اخلاقی ، ذاتی اظہار، سرسری معلومات پر رائے قائم کرنا اور احساس ذمہ داری کے بغیر کلام کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page