برانام
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳
علیہ وسلم من دعی رجلاً بالكفر أو قال عداو ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ وليس ذالك الاجهاء عليه دوسرے شخص کو کافر کہے کہ پکارے، یا اس کو (متفق علیہ ) خدا کا دشمن کہے اور وہ ایسا نہ ہو تو یہ بات خود کہنے والے پر لوٹ آئے گی ۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو برا نام ویسا نہ بے حد سنگین جرم ہے۔ اور اس کی سنگینی کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ جس شخص کو برا نام دیا گیا ہے ، اگر وہ ایسا نہیں ہے تو اس برے نام کا سارا وبال خود کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔ شریعت اسلام نے اس سے کسی کو نہیں روکا کہ وہ حقائق و واقعات کی بنیاد پر کسی کے خیالات کا تجزیہ کرے جس کو موجودہ زمانہ میں علمی تنقید کہا جاتا ہے۔ مگر کسی کو برا نام دینا (کسی کے بارہ میں مخالفانہ ریمارک پاس کرنا) سراسر غیر شرعی فعل ہے۔ یہ اللہ کو اتنا زیادہ نا پسند ہے کہ اگر مخاطب دینا ہو تو یہ برا نام خدا کے رجسٹر میں خود قائل کے خانہ میں لکھ دیا جاتا ہے ۔ گویا یہ ایک قسم کا بوم رینگ (Boomerang) عمل ہے۔ یہ ایک ایسا پتھر ہے جو دوسرے پر نہ پڑے تو وہ لوٹ کر خود پھینکنے والے پر پڑتا ہے ۔
مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے : " عموماً دیکھا جاتا ہے کہ جہاں دو شخصوں یا دو جماعتوں میں اختلاف رونما ہوا ، بس ایک دوسرے کا تمسخر اور استہزاء کرنے لگتا ہے۔ ذرا سی بات ہاتھ لگ گئی اور ہنسی مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ حالاں کہ اسے معلوم نہیں کہ شاید جس کا مذاق اڑا رہا ہے وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہو۔ بلکہ بسا اوقات یہ خود بھی اختلاف سے پہلے اس کو بہتر سمجھتا ہوتا ہے مگر ضد اور نفسانیت میں دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آتا ہے ، اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ آیئے ہذا میں خدا وند قدوس نے اس قسم کی باتوں سے منع فرمایا ہے ۔ یعنی ایک جماعت دوسری جماعت کے ساتھ نہ مسخر اپن کرے نہ ایک دوسرے پر آوازے کے جائیں ، نہ کھوج لگا کر عیب نکالے جائیں اور نہ برے ناموں اور برے القاب سے فریق مقابل کو یاد کیا جائے ۔ کسی کا برا نام ڈالنے سے آدمی خود گنہ گار ہوتا ہے ۔ اُسے تو واقع میں عیب لگایا نہ لگا ، لیکن اس کا نام بد تہذیب ، فاسق ، گنہ گار ، مردم آزار پڑ گیا ۔ جو پہلے ہو چکا اب تو بہ کر لو۔ اگر یہ احکام و ہدایات سننے کے بعد بھی ان جرائم سے توبہ نہ کی تو اللہ کے نزدیک اصلی ظالم یہ ہی ہوں گے "۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues