Al-Risala · October 1986 · page 24

خواب پورا ہو گیا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۴

خواب پورا ہو گیا

قرآن کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کے دوران میں نے تقریباً تمام قابلِ ذکر تفسیروں سے استفادہ کیا اور اس طرح مجھے ان کی نوعیت سے واقف ہونے کا موقع ملا۔ قدیم و جدید تفسیروں کو دیکھنے کے بعد میرا احساس یہ تھا کہ قرآن کے اکثر پہلوؤں پر اگرچہ بڑی بڑی تفسیریں لکھی جا چکی ہیں، تاہم اس کا ایک پہلو ایسا ہے جو ابھی تک باقی پڑا ہوا ہے ۔ اور عجیب بات ہے کہ یہ عین وہی پہلو ہے جو قرآن کے بیان (القرآن، (1) کے مطابق اس کا اصل پہلو ہے، اور جس کے لیے اصلاً قرآن اتارا گیا، یعنی تذکیر و نصیحت۔ لوگوں نے بے شمار تفسیریں لکھیں، مگر خالص تذکیری انداز میں ابھی تک کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔

جب میں یہ کہتا ہوں کہ تذکیری نوعیت کی کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی تو اس سے میری مراد دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ آیات کے ان پہلوؤں کو ابھارنا جو اپنے اندر انسان کے لیے کوئی سبق رکھتے ہیں اور جو قلبی اور عقلی اعتبار سے اس کو ازدیادِ ایمان کی طرف لے جانے والے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اعتبار سے موجودہ تفسیریں، اپنی ساری عظمت کے باوجود، ایک قسم کا پردہ بن گئی ہیں ۔ ایک شخص قرآن کا متن یا اس کا صرف ترجمہ پڑھے تو وہ حسبِ استعداد اس سے تذکیری غذا لے سکتا ہے۔ مگر جب وہ موجودہ تفسیروں میں سے کوئی تفسیر پڑھتا ہے تو دوسرے دوسرے مباحث میں وہ اتنا گم ہوتا ہے کہ ملنے والی چیز بھی اس کو نہیں ملتی ۔

دوسری چیز وہ ہے جس کا تعلق اسلوب بیان سے ہے ۔ موجودہ تفسیریں اکثر خاص طرح کے فنی اسلوب میں لکھی گئی ہیں۔ یہ فنی اسلوب تذکیر و موعظت کے لیے سراسر غیر موزوں ہے۔ اور جو اسلوب تذکیر و موعظت کے لیے موزوں ہے اس کے مطابق میرے علم کی حد تک کسی نے قرآن کی تفسیر نہیں لکھی۔ یہ بات تفسیروں کے مطالعے کے دوران میرے علم میں آ چکی تھی۔ مگر مجھے ہرگز یہ معلوم نہ تھا کہ قرآن کی خدمت کا یہ کام خود مجھ سے لیا جائے گا۔

1963 کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں اعظم گڑھ میں تھا۔ یہ میری زندگی کا خاص وقفہ تھا جب کہ مجھ پر ایک قسم کی حیرانگی کا عالم طاری تھا۔ اس وقت میں ایک نا پیدا کنار صحرا کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔ میں خدمتِ دین کی تڑپ سے جل رہا تھا۔ مگر کام کے عملی مواقع مجھے دکھائی نہیں دیتے تھے۔ حتی کہ مجھ پر یہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page