Al-Risala · October 1986 · page 34

خواب پورا ہو گیا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۴

اختیار کیا اور برطانیہ کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی۔

میں نے کہا کہ ” ریورس کورس “ کا یہ کامیاب طریقہ دنیا کو پیغمبر اسلام کی دین ہے۔ معلوم تاریخ میں پیغمبر اسلام پہلی نمایاں شخصیت ہیں جنھوں نے اس طریقہ کو استعمال کر کے دنیا کے لیے کامیابی کا راستہ کھولا۔ صلح حدیبیہ عرب کے حالات کے لحاظ سے عین وہی چیز تھی جس کو جاپانیوں نے موجودہ زمانہ میں ریورس کورس کا نام دیا ہے ۔ پیغمبر اسلام اس طریقہ علی کے موجد ہیں۔ موجودہ دنیا میں سب سے زیادہ مشکل کسی چیز کو دریافت کرنا ہے، اور جب وہ چیز دریافت ہو جائے تو اس کی نقل ہر ایک کے لیے آسان ہو جاتی ہے۔

آج دوبارہ ہندوستان میں ایک ریورس کورس کی ضرورت ہے ۔ نفرت کے بجائے محبت، تشدد کے بجائے عدم تشدد، بدگمانی کے بجائے نیک گمان ، ٹکراؤ کے بجائے پرامن تعمیر، جس دن ملک میں اس ریورس کورس کا آغاز ہوگا اسی دن یہ ملک دوبارہ کامیابی کی منزل کی طرف چل پڑے گا جو آج راستہ بھول کر منزل سے بہت دور نکل گیا ہے ۔ جو فرقہ سب سے پہلے ریورس کورس کا طریقہ اختیار کرے گا وہ دوسرے فرقوں پر بازی لے جائے گا۔

30 اگست کی شام کو جناب ڈاکٹر نانک صاحب کی رہائش گاہ پر کھانا تھا۔ وہاں پہچنانہ تو اخبار بلٹز کی پارٹی انٹرویو لینے کے لیے موجود تھی۔ پہلے زمانہ میں انٹرویو لینے والے کو یہ کرنا پڑتا تھا کہ وہ ایک طرف سوال کرے اور دوسری طرف وہ جواب دینے والے شخص کی بات کو جلدی جلدی کاغذ پر لکھتا رہے۔ اب ٹیپ ریکاررڈر نے اس کام کو بہت آسان بنا دیا ہے ۔ چنانچہ بلٹز کے نمائندے ایک طرف کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔ دوسری طرف میں بیٹھا ہوا تھا اور درمیان میں ایک چھوٹی سی میز پر ٹیپ ریکا ڈر رکھا ہوا تھا۔ ہم لوگ ایک گھنٹہ تک باتیں کرتے رہے اور ہماری باتوں کو محفوظ کرنے کا کام ٹیپ ریکارڈر خاموشی کے ساتھ انجام دیتا رہا۔ اللہ تعالیٰ کی کیسی کیسی نعمتیں ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے کھولی ہیں مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں۔ شاید اسی لیے قرآن میں آیا ہے : وقليل من عبادي الشکور۔

انٹرویو کے سلسلہ میں میرا تجربہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے کو " اسلامی “ کہتے ہیں وہ اکثر انٹرویو لیتے ہوئے ”غیر اسلامی “ بن جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو سیکولر کہے جاتے ہیں،

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page