خواب پورا ہو گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵
ان کا انٹرویو لینے کا طریقہ زیادہ معقول ہوتا ہے ۔
ان اسلامی حضرات کا معاملہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو دو الگ الگ خانے میں بانٹے ہوئے ہیں ۔ ایک موافق اور دوسرے مخالف ، یا اپنے گروہ کے لوگ ۔ اور اپنے گروہ سے باہر کے لوگ ۔ جن لوگوں کو وہ اپنے گروہ کا آدمی سمجھتے ہیں ان کا انٹرویو لینا ہو تو وہ اس کو معتدل انداز میں لیتے ہیں ۔ مگر جس کو وہ اپنا مخالف یا اپنے گروہ سے باہر کا سمجھ لیں اس کا انٹرویو لیتے ہوئے وہ اعتدال کو کھو دیتے ہیں ۔
مگر " سیکولر " لوگوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ ان کے ذہن میں انسانوں کی مندرجہ بالا تقسیم نہیں ہوتی یا کم از کم یہ کہ اس معاملہ میں وہ شدید نہیں ہوتے ۔ اس لیے کسی بھی شخص کا انٹرویو لیتے ہوئے وہ اپنے اعتدال کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ بلٹز اسی دوسری قسم کے اخبارات میں سے ہے ۔ چنانچہ اس کے نمائندوں سے انٹرویو نہایت خوش گوار فضا میں ہوا۔ ان لوگوں نے معتدل انداز میں سوالات کیے اور میں بھی آخر تک معتدل انداز میں ان کے سوالات کا جواب دیتا رہا ۔
آخر میں انھوں نے کہا کہ آپ مسلمانوں کے بارہ میں جو رائے رکھتے ہیں اس کا خلاصہ بتائیے ۔ میں نے کہا : " مسلمانوں نے برداشت کو کھودیا ہے ، اس لیے وہ ہر چیز کو کھوئے ہوئے ہیں ۔ جس دن وہ جان لیں گے کہ برداشت زندگی کا راز ہے اسی دن دوبارہ وہ ان تمام چیزوں کو پالیں گے جس کو انھوں نے موجودہ زمانہ میں کھویا ہے ! "
بمبئی کا قیام اگرچہ بہت مختصر تھا ۔ تا ہم یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا ۔ اکثر ملاقاتوں میں گفتگو کا موضوع ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ صورت حال تھی ۔ بعض مجالس میں گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان ہمیشہ دوسروں کی شکایت کرتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر آدمی صرف اپنے کیے کو بھگتا ہے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی مصیبت بھی حقیقۃً کسی ظالم کا ظلم نہیں ، وہ مسلمانوں کے اپنے پھڑے پن کی قیمت ہے ۔
میں نے کہا کہ اس کی ایک مثال مسلمانوں کی موجودہ اردو صحافت ہے ۔ یہ صحافت عام طور پر اتنی گھٹیا ہے کہ جدید معیار کے مطابق اس کو صحافت کہنا ہی مشکل ہے ۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues