امکان ختم نہیں ہوتا
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۴
امکان ختم نہیں ہوتا
عبد الرحمن بن معاویہ ابن ہشام (۱۷۲-۱۱۳ھ) بنو امیہ کا ایک شہزادہ تھا۔ وہ نہایت ذہین اور باصلاحیت تھا۔ چنانچہ اس کی تربیت ابتدا ہی سے نہایت شاہانہ انداز میں کی گئی۔ اس کو اس طرح تیار کیا گیا کہ جب وہ بڑا ہو تو کامیابی کے ساتھ تخت خلافت پر بیٹھ سکے ۔
مگر ۱۳۲ھ میں بنو امیہ کی خلافت ختم ہو کر بنو عباس کی خلافت شروع ہو گئی۔ اس وقت عبد الرحمن کی عمر تقریباً 20 سال تھی۔ جب عباسی لشکر شام میں داخل ہو کر دمشق پر قابض ہو گیا اور بنو امیہ کا قتلِ عام ہونے لگا اس وقت اتفاق سے عبد الرحمن دمشق میں موجود نہ تھا۔ بلکہ باہر دریائے فرات کے کنارے ایک گاؤں میں گیا ہوا تھا۔ یہاں دریا کے کنارے اس کی جاگیر تھی اور اس کے باغات وغیرہ تھے۔ اس وقت وہ یہیں پر مقیم تھا۔
عبد الرحمن کو جب معلوم ہوا کہ بنو امیہ کے افراد کا قتل عام ہو رہا ہے تو وہ یہاں درختوں کے جھنڈ میں خیمہ لگا کر چھپ گیا ۔ ایک روز وہ اپنے خیمہ میں تھا کہ اس کا چار سال کا لڑکا خوف زدہ حالت میں خیمہ میں آیا ۔ معلوم ہوا کہ بنو عباس کے سپاہی اس کو تلاش کرتے ہوئے اس باغ تک پہنچ گیے ہیں ۔ عبد الرحمن نے اپنے بچہ کو گود میں اٹھایا اور دریا کی طرف بھاگا۔ وہ دریا میں کود پڑا اور تیرتا ہوا اس کے دوسرے کنارے پر پہونچ گیا۔
عبد الرحمن بن معاویہ دمشق سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ تاہم کئی سال تک اس کی زندگی نہایت مصیبت کی زندگی رہی ۔ دشمن سے بچنے کے لیے دریا میں کود نا ، جنگلوں میں پناہ لینا ، بھوکے پیا سے ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی طرف بھاگنا ، یہ اس کی زندگی تھی ۔ اسی حال میں وہ سبط پہونچا۔ جو افریقہ کے ساحل پر واقع تھا ۔
بظاہر عبد الرحمن کا مستقبل تاریک ہو چکا تھا ۔ اس کی زندگی بنتے بنتے بگڑ گئی تھی ۔ بچپن کی عمر میں جس کا یہ حال تھا کہ تخت خلافت اس کا انتظار کر رہا تھا ۔ جوانی کی عمر کو پہونچ کر اس کے لیے زمین میں ایک گوشہ بھی نہیں رہا جہاں وہ سکون کی زندگی گزار سکے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues