خواب پورا ہو گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۷
خاموشی کے ساتھ میرا منہ دیکھتے رہے۔ مزید تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اخبار کے اسٹاف میں سے کوئی ایک شخص بھی باضابطہ طور پر تربیت یافتہ نہیں۔ ان میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جس نے کسی شعبہ فن میں اعلیٰ تعلیمی ڈگری حاصل کی ہو۔
ایک بار میری ملاقات چند حضرات سے ہوئی ۔ تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اردو صحافت سے تعلق رکھتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے ایک نوجوان سے کہا کہ صحافت کی ایک اصطلاح ہے جس کو الٹا اہرام (Inverted pyramid) کہا جاتا ہے۔ کیا آپ بتائیں گے کہ اس کا مطلب کیا ہے اور وہ کیا چیز ہے جس کو الٹا اہرام کا نام دیا گیا ہے۔ مگر وہ اس کی تشریح نہ کرسکے۔ پھر میں نے ایک اور صحافی سے کہا کہ امریکی تاریخ کا ایک واقعہ ہے جو اسپینی امریکی جنگ (Spanish-American war) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ جنگ ۱۸۹۸ء میں ہوئی کہا جاتا ہے کہ اس جنگ کے چھڑنے میں ایلو پریس (Yellow Press) کا بہت بڑا دخل تھا۔ کیا آپ اس کی کچھ تفصیل بتا سکتے ہیں کہ ایلو پریس نے کس طرح اس جنگ کو بھڑکایا۔ مذکورہ اردو صحافی اس کا کوئی جواب نہ دے سکے ۔
ایک بار میں ایک اخبار کے دفتر میں گیا۔ یہ ایک مشہور اردو اخبار ہے۔ اس کے ایڈیٹر سے ملاقات کے دوران میں نے پوچھا کہ آپ کے یہاں ریفرنس بکس (Reference books) کے طور پر کون کون سی کتابیں ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس نوعیت کی کوئی ایک بھی قابل ذکر کتاب اخبار کے دفتر میں موجود نہیں ۔
بہت پہلے میں نے ادبی تنقید پر ایک مضمون لکھا تھا ۔ یہ مضمون جناب نیاز فتح پوری کے نگار (جون 1945) میں چھپا تھا۔ نیاز فتح پوری نے مضمون شائع کیا تو انھوں نے اس کا عنوان بدل دیا۔ مجھے ان کا عنوان پسند نہ آیا۔ میں نے انھیں لکھا کہ آپ نے میرے مضمون میں تحریف کر دی ۔ انھوں نے جواب میں لکھا: "میں نے جو کچھ کیا وہ تحریف نہیں بلکہ تصحیف تھی، جس کا ہر ایڈریٹر مجاز ہوتا ہے۔ " نیاز فتح پوری نے غالباً صحافت کے لفظ پر قیاس کرتے ہوئے یہاں تصحیف کو ایڈیٹنگ (Editing) کے معنی میں استعمال کیا تھا۔ حالاں کہ عربی داں حضرات یہ جانتے ہیں کہ تصحیف کے یہ معنی نہیں ہیں۔ ایک اردو صحافی سے میں نے کہا کہ آپ یقیناً جانتے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues