خواب پورا ہو گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۸
ہوں گے کہ صحافت موجودہ زمانہ میں فورتھ اسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ اس کے بعد میں نے ان کے سامنے ایک کاغذ بڑھاتے ہوئے گزارش کی کہ اس لفظ کو آپ اس کاغذ پر انگریزی میں لکھیں۔ انھوں نے کاغذ پر لکھا :
Fourth State مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ درست نہیں۔
اگر چہ سب کا نہیں مگر اکثر اخباروں کا معاملہ یہی ہے۔ مسلمانوں کے اکثر اردو اخبارات کا حال یہ ہے کہ اس کا اسٹاف زیادہ تر نیم خواندہ اور غیر تربیت یافتہ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ سنسنی خیز صحافت میں بھی وہ زیادہ اعلی اور زیادہ لطیف معیار پیش کرنے پر قادر نہیں۔ بین اقوامی جاسوسی، اعلیٰ سطح کے سیاسی اسکینڈل اور بڑے بڑے صنعت کاروں کے اندرونی راز تک رسائی کے لیے جو اعلیٰ استعداد درکار ہے اس سے وہ خالی ہوتے ہیں۔ اپنی کم تر صلاحیت کی بنا پر وہ صرف سطحی قسم کی سنسنی خیز صحافت کو وجود میں لا سکتے ہیں اور اسی کو وہ وجود میں لاتے ہیں۔ وہ اپنی بے استعدادی کو اپنی قوم کے اوپر انڈیل دیتے ہیں۔
حال میں میں نے ایک مسلم اخبار کو دیکھا۔ اس کی یہ اشاعت وسط اگست ۱۹۸۶ میں عید اضحیٰ نمبر کے طور پر شائع کی گئی ہے۔ اس کے ٹائٹل پر انسانی لاشوں کی تصویریں چھپی ہوئی ہیں ۔ یہ لاشیں ان مسلمانوں کی ہیں جو احمد آباد کے فساد (۹ جولائی ۱۹۸۶) میں جلائے یا قتل کیے گیے تھے یہ تصویر بلا شبہ درد ناک ہے۔ مگر قابل ذکر بات یہ ہے کہ اخبار کے اندر کے صفحات تو معمولی کاغذ پر صرف کالے حروف میں چھپے ہوئے ہیں۔ مگر ان جلی اور کٹی ہوئی لاشوں کو آرٹ پیپر پر چار رنگ میں نمایاں کر کے چھاپا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اخبار کے ذمہ داروں کو کوئی بہت دل پسند چیز مل جائے اور اس کو وہ نہایت اہتمام کے ساتھ خوب رنگین بنا کر شائع کریں ۔ لاشوں کو اس طرح چھاپنا لاشوں کو تجارت کا مال بنانا ہے ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہمارے اکثر اخبارات فرقہ وارانہ فساد کے اوپر زندہ ہیں۔ اگر ہندوستان میں فرقہ وارانہ فساد ختم ہو جائیں تو ان اخبارات کی زندگی کا سامان بھی ختم ہو جائے گا۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ انسانی تاجر جن کی غذا جلے ہوئے جسم اور کٹی ہوئی لاشیں ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues