Al-Risala · October 1986 · page 30

خواب پورا ہو گیا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۰

اس مسلم اخبار کے خلاف مستقل مضامین شائع کرتا تھا۔ ہندو ایڈیٹر اور مسلمان ایڈیٹر دونوں شام کو ایک ساتھ چائے پیتے اور صبح کے اخبار میں دونوں کے مضامین ایک دوسرے کے خلاف چھپتے۔ اس کاراز یہ ہے کہ دونوں نے اخبار نکالا۔ مگر دونوں کا اخبار کسی طرح چل نہیں رہا تھا۔ آخر انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ تم ہمارے خلاف لکھو اور ہم تمہارے خلاف لکھیں۔ چنانچہ دونوں نے اس پر عمل شروع کیا اور دونوں کا اخبار دھوم کے ساتھ چل نکلا۔ لوگ روزانہ صبح کو دونوں اخبار خریدتے تاکہ یہ جانیں کہ مسلمان ایڈیٹر نے ہندو ایڈیٹر کے خلاف کیا لکھا اور ہندو ایڈیٹر نے مسلمان ایڈیٹر کے خلاف کیا شائع کیا۔

مسلمانوں کے موجودہ اردو اخبارات کے متعلق میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے کسی سے اس قسم کا سمجھوتہ کر رکھا ہے۔ تاہم یہ یقینی ہے کہ ان ایڈیٹروں اور فرقہ وارانہ فسادیوں کے درمیان ایک خاموش انڈر سٹینڈنگ ہے ـــــــــــ تم فساد کرو تا کہ ہم لکھیں ۔ تم لکھو تاکہ ہم فساد کریں۔ نصف لی ونصف لک هذا قوم جاهلون ۔

راقم الحروف ، ۱۹۴۷ سے ۱۹۷۴ تک ہفت روزہ الجمعہ ( دہلی) کا ایڈیٹر تھا۔ اسی زمانہ میں مولانا محمد عثمان فار قلیط مرحوم (۱۹۷۵۔ ۱۸۹۰) روزنامہ الجمعتہ کے ایڈیٹر تھے۔ مرحوم کا خاص ذوق ” فرقہ پرستوں “ سے نوک جھونک کرنا تھا۔ ان کے ادارئے اکثر ایسے ہوتے تھے کہ پیشگی طور پر یہ اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ وہ فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ پر پر شور تبصرہ ہوگا۔ ہفت روزہ الجمعتہ میں میرا انداز، میرے ذوق کے مطابق، اس سے بالکل مختلف تھا۔ ایک بار مرحوم سے اس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی ۔ مرحوم نے کسی قدر بگڑ کر کہا : ہم آپ کی طرح مفکر نہیں، ہم تو جھلی والوں کے لیے لکھتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ یہ الفاظ مولانا فار قلیط پر کس حد تک صادق آتے ہیں۔ مگر آج کل کے اکثر اردو اخبارات کا حال یقیناً یہی ہے ۔ ان کے پست معیار کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ” ’’جھلی والوں “ کے لیے نکالے گئے ہیں۔ چنانچہ عملی بھی یہی ہے کہ وہ صرف عوامی قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں نظر آتے ہیں۔ وہ کسی سنجیدہ یا تعلیم یافتہ آدمی کی میز پر کبھی دکھائی نہیں دیتے ۔ دہلی کی لیبر کورٹ نے ایک بار اردو اخبار کے مقدمہ کا فیصلہ دیتے ہوئے ” کاتب “

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page