Al-Risala · October 1986 · page 41

خواب پورا ہو گیا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۱

کو " جرنلٹ " شمار کیا تھا۔ اس سے اردو اخبار کے ایڈیٹر لوگ بہت ناخوش ہوئے۔ مگر یہ ایک حقیقت تھی جو عدالت کی زبان سے ظاہر ہوئی ۔ کسی انگریزی اخبار کے مقدمے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کمپوزیٹر کو ایڈیٹر یا جرنلٹ کا درجہ دیا جائے ۔ مگر اردو اخبار کا معیار خود ہی ایسا ہے کہ اکثر اس میں کاتب اور ایڈیٹر کا فرق بہت کم ہوتا ہے ـــ یہی وہ مقام ہے جہاں اردو صحافت کا حقیقی المیہ چھپا ہوا ہے ۔

بمبئی میں وہاں کے ریڈیو اسٹیشن نے میری ایک تقریر ریکارڈ کی جو بعد کی کسی تاریخ کو نشر کی گئی ۔ تقریر کا عنوان انھوں نے اپنی طرف سے حسب ذیل تجویز کیا تھا : اسلام کے آفاقی اصول اس پروگرام کی اطلاع جناب نسیم علی خاں صاحب نے بذریعہ ٹیلی فون پیشگی طور پر مجھے دی تھی ۔ چنانچہ روانگی سے قبل دہلی میں میں نے مذکورہ موضوع پر تقریباً پندرہ منٹ کی ایک تقریر تیار کرلی تھی ۔ یہ تقریر ۲۲ اگست کو دوپہر کے وقفہ کے وقت ریڈیو اسٹیشن کے اسٹوڈیو میں ریکارڈ کی گئی ۔ انشاء اللہ آئندہ یہ تقریر الرسالہ میں شائع کردی جائے گی ۔

بمبئی کی یادوں میں سے ایک یاد ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے ۔ ایک بار ہم ایک ٹیکسی پر سفر کر رہے تھے ۔ مجھے ڈرائیور کے چہرے پر داڑھی دیکھ کر اس سے دل چسپی پیدا ہوئی ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس کا نام ہیرا الال ہے۔ میں نے اس سے اس کے پیشہ کے بارہ میں کئی سوالات کئے ۔ اس نے بتایا کہ ایک عام آدمی اگر ایک فیٹ کار خریدے تو اس کو وہ ایک لاکھ میں پڑے گی ۔ مگر ہم لوگوں کو وہ رعایتی طور پر ۸۵ ہزار میں مل جاتی ہے ۔

ہیر لال اپنی ٹیکسی کا خود مالک ہے ۔ میں نے پوچھا کہ گاڑی کی قیمت آپ لوگ کتنے دن میں نکال لیتے ہیں ۔ اس نے کہا کہ دو سال میں ۔ اس نے بتایا کہ ہم لوگ دو بھائی ہیں ۔ دونوں مل کر رات کو بھی چلاتے ہیں اور دن کو بھی ۔ ہم نے پہلے ایک گاڑی خریدی تھی ۔ اب ہمارے پاس تین گاڑیاں ہیں ۔

میں نے کہا کہ گاڑی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ایکسیڈنٹ کا ہوتا ہے ۔ ایکسیڈنٹ سارے نفع کو کھا جاتا ہے ۔ پھر ایکسیڈنٹ سے آپ کس طرح اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ اس کے جواب

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page