ہم کو دوسروں کی غلطی کو سنبھالنا پڑتا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۲
میں اس نے جو کچھ کہا وہ ایک ایسا کلمہ حکمت تھا جو موجودہ زمانہ کے کسی بھی مفکر اسلام یا حکیم امت کے یہاں مجھ کو سننے یا پڑھنے کو نہیں ملا۔ اس کے الفاظ یہ تھے :
ہم کو دوسروں کی غلطی کو سنبھالنا پڑتا ہے
اس نے کہا کہ سڑک پر گاڑیاں چلانے والے اکثر اناڑی پن کے ساتھ گاڑیاں چلاتے ہیں ۔ وہ غلط طریقہ سے اپنی گاڑی دوڑاتے ہیں۔ اگر ہم بھی انھیں کی طرح کرنے لگیں تو ایکسیڈنٹ یقینی ہے۔ اس لیے جو کام دوسروں کو کرنا چاہیے وہ ہمیں کرنا پڑتا ہے۔ ہم کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ دوسرا شخص جب غلطی کرے تو ہم اپنے آپ کو اس کی غلطی سے بچائیں ۔
سڑک پر گاڑی دوڑانے والا آدمی اگر یہ بحث چھیڑے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، تو وہ خود غلط ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ وہ قانونی اور منطقی نقطہ نظر کو چھوڑ کر عملی نقطہ نظر اختیار کرتا ہے ۔ وہ اس بحث میں نہیں پڑتا کہ غلطی کس کی ہے۔ وہ صرف یہ سوچتا ہے کہ میں اپنے آپ کو اس کی غلطی کی انجام سے کس طرح بچاؤں ۔ دوسرا اگر غلطی کر رہا ہو تب بھی وہ اس غلطی کو اپنے خانہ میں ڈال لیتا ہے ۔ وہ دوسرے کی غلطی کو یک طرفہ طور پر خود درست کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے ۔
ڈرائیور سے گفتگو کے بعد میں نے سوچا کہ ہیر الال نے جو بات سڑک کے بارہ میں بتائی، وہی بات عام زندگی کے بارہ میں بھی صحیح ہے ۔ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ہمیں وہی کرنا ہے جو ایک ٹیکسی ڈرائیور بھری ہوئی سڑک پر چلتے ہوئے کرتا ہے۔ یعنی دوسرے لوگ جب غلطی کریں تو ہم ان کی غلطی کو سنبھالیں ۔ دوسروں کی غلطی کے انجام سے اپنے آپ کو بچانے کی تدبیر کریں ۔ مگر حیرت ہے کہ ہمارے لیڈر جو قوم کے ڈرائیور ہیں ، وہ اس سادہ سی حقیقت کو نہیں جانتے جو ٹیکسی کا معمولی ڈرائیور بھی جانتا ہے ۔ شاید اس لیے کہ قوم کے لیڈر قوم کے بارہ میں اتنے سنجیدہ نہیں جتنا ایک ٹیکسی ڈرائیور اپنی ٹیکسی کے بارہ میں سنجیدہ ہوتا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور کو اپنی ٹیکسی کا درد ہے ، یہ درد اس کو بتائے بغیر وہ بات سمجھا دیتا ہے جو درد سے خالی آدمی بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتا۔
کچھ علوم وہ ہیں جو درد کی درس گاہ میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر آپ درد کی درس گاہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues