ریاضیاتی دنیا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴
کائنات ایک آئینہ ہے جس میں اس کے خالق کا چہرہ نظر آتا ہے۔ اس اعتبار سے کائنات کی ہر چیز ایک نشانی ہے۔ ہر چیز ایک حقیقت کا جلوہ دکھارہی ہے۔ اگر آدمی کے اندر دیکھنے کی صلاحیت ہو تو وہ ہر چیز میں ایک معنویت دیکھے گا۔ موجودہ دنیا اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ اس کے لیے معرفت الہی کا عظیم خزانہ بن جائے گی۔
ریاضیاتی دنیا
کائنات بظاہر ایک ریاضیاتی کائنات ہے۔ کائنات ریاضی کے اصولوں کی حد تک منظم ہے۔ یہ موجودہ کائنات کا ایک ایسا پہلو ہے جو اس کے ہر حصہ میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ شہد کی مکھی حد درجہ صحت کے ساتھ مسدس اشکال سے چھتے بناتی ہے ۔ ایٹم کے ذرات کی کمیت انتہائی یکساں طور پر متعین ہوتی ہے۔ زمین کی دو طرفہ گردش اتنی صحت کے ساتھ ہوتی ہے کہ ہر آنے والے سال پہلے اور ہزاروں سال آگے تک کے کلنڈر بنائے جاسکتے ہیں۔ یہی کائنات کے تمام اجزاء کا حال ہے ۔ کائنات کا ہر جزنر اتنے محکم اصولوں کے مطابق عمل کرتا ہے کہ نہایت صحت کے ساتھ اس کے مستقبل کی پیشین گوئی کی جا سکتی ہے ۔
کائنات کا یہ پہلو سائنس دانوں کو بے حد متاثر کرتا ہے۔ حتی کہ انہیں یقین ہو گیا ہے کہ پوری کائنات ایک ریاضیاتی ماڈل ہے، کسی چیز کو جب تک وہ ریاضیاتی طور پر نہ سمجھ لیں وہ گمان کرتے ہیں کہ ابھی انھوں نے اس کو سمجھا نہیں ۔
سائنس داں عالم فطرت کی تحقیق کرتے ہیں ۔ اگرچہ سائنس کے درجنوں شعبے ہیں، اور مختلف سائنس داں اپنے شعبوں میں الگ الگ تحقیق اور مطالعہ کا کام کرتے ہیں۔ تاہم ان کے کام کا اگر ایک مشترک عنوان دینا ہو تو وہ یہ ہوگا کہ کائنات میں ریاضیاتی نظم کی تلاشی : Searching for mathematical order in the universe. تمام سائنس دانوں کا یہ مشترک عقیدہ ہے کہ کائنات میں ریاضیاتی قطعیت کی حد تک نظم اور ترتیب ہے۔ ایک سائنس داں اپنی تحقیق پر اس وقت بالکل مطمئن ہو جاتا ہے جب کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues