ریاضیاتی دنیا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۵
اپنی تحقیق کو ریاضیاتی سانچے میں ڈھال لے ۔ ریاضیاتی تصدیق سائنس داں کے نزدیک اس کے نظریہ کی صداقت کا آخری ثبوت ہے ۔
سائنس دانوں کی جماعت کائنات کے مطالعہ میں ریاضی کو اسی طرح استعمال کرتی ہے جس طرح سناروں کی جماعت سونے کے کاروبار میں کسوٹی کو ۔ سنار کسوٹی کی تصدیق کے بعد سونے کا سونا ہونا مان لیتا ہے ۔ اسی طرح سائنس داں ریاضی کی تصدیق کے بعد نظریہ کا صحیح ہونا تسلیم کر لیتا ہے ۔
ریاضیات اور کائناتاتی نظام کے درمیان یہ مطابقت کیوں ہے ۔ بعض سائنس دانوں نے یہ سوال اٹھایا ہے ۔ ان کے ایک طبقہ نے اس کا براہ راست جواب دیئے بغیر اس کو مزید ایک سوال پر ختم کر دیا ہے ۔ کیا کائنات ایک ریاضیاتی ذہن کی تخلیق ہے :
Was the universe created by a mathematical mind? کچھ سائنس دانوں نے اس کا مثبت جواب دیا ہے ۔ سر جیمیز جینز فلکی طبیعیات کا ایک مشہور عالم ہے ۔ اس نے ۱۹۳۲ میں کہا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نقشہ ایک خالص ریاضی داں نے تیار کیا تھا :
In 1932, Sir James Jeans, an astrophysicist siad: “the universe appears to have been designed by a pure mathematician.”
Encyclopaedia Britannica (1984) V. 15. p. 531. کائنات اور انسان موجودہ اندازہ کے مطابق کائنات میں کم ازکم دس ارب کہکشائیں ہیں ۔ ہر کہکشاں میں تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں ۔ ان میں سے اکثر ستارے ہمارے سورج سے بہت زیادہ گرم اور بہت زیادہ بڑے ہیں جبکہ ہمارا سورج اتنا بڑا ہے کہ اس سے زمین جیسے بارہ لاکھ کر ے بنائے جاسکتے ہیں یہ ان گنت متحرک ستارے ایک دوسرے سے اتنے زیادہ دوری پر ہیں جیسے بحر الکاہل میں بکھرے ہوئے چند سمندری جہاز ۔ اس ناقابلِ قیاس حد تک بڑی دنیا میں زمین کا چھوٹا سا کرہ ایک انتہائی نادر استثناء ہے جہاں پانی اور ہوا اور وہ دوسری چیزیں ہیں جو انسان جیسی مخلوق کے لیے زندگی کا سامان
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues