ریاضیاتی دنیا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۶
بن سکیں ۔ یہ دنیا اپنی ساری عظمتوں اور حکمتوں کے باوجود انسان کے بغیر بالکل بے معنی ہے۔ مگر خود انسان کی زندگی اتنی زیادہ بے معنی معلوم ہوتی ہے کہ ساری کائنات میں بظاہر اس زیادہ بے معنی کوئی چیز یں۔
انسان اگر نہ ہو تو یہاں کوئی آنکھ نہ ہوگی جو دنیا کی رنگینیوں کو دیکھے اور کوئی کان نہ ہوگا جو اس کے نغموں کو سنے اور کوئی دماغ نہ ہوگا جو اس کی حکمت اور معنویت کو پائے۔ یہ دنیا ایک عظیم ترین آرٹ ہے مگر انسان کے بغیر وہ ایک ایسا آرٹ ہے جس کا کوئی جاننے والا نہیں، جس کی کوئی داد دینے والا نہیں۔
مگر خود انسان کی حقیقت کیا ہے۔ زمین پر جتنے انسان پائے جاتے ہیں، اگر ان میں کا ہر شخص چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو انسان کی پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جاسکتا ہے جو لمبائی چوڑائی اور بلندی میں ایک میل ہو ۔ کائنات کی وسعتوں کے مقابلہ میں یہ صندوق کس قدر چھوٹا ہے۔ پھر اگر اس کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں اس طرح گم ہو جائے گا جیسے بھری ہوئی بالٹی میں سرسوں کا ایک دانہ ۔ صدیاں گزر جائیں گی، نسل انسانی اپنے مادی کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لیے پڑی رہے گی ۔ دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں کبھی انسان جیسی کوئی مخلوق آباد تھی ۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح طوفان آتے رہیں گے ۔ سورج اسی طرح چمکتا رہے گا زمین کا کرہ بدستور اپنے محور پر گھومتا رہے گا۔ کائنات کی لا محدود پہنائیوں میں پھیلی ہوئی ان گنت دنیا ئیں اس حادثہ کو بس اتنی ہی اہمیت دیں گی جیسے زمین کے اوپر ایک چیونٹی کا کچل کر مر جانا۔ صدیوں کے بعد سمندر کے کنارے سے مٹی کا ایک ڈھیر نہ زبان حال سے بتائے گا کہ یہ نسل انسانی کی قبر ہے جہاں وہ صدیوں پہلے ایک صندوق میں دفن کی گئی تھی ۔ انسان باعتبار حقیقت انتہائی بامعنی ہے۔ مگر انسان کائنات کے موجودہ نظام میں اپنی معنویت کو نہیں پا تا۔ یہاں انسان کی تمنائیں پوری نہیں ہوتیں ۔ موجودہ دنیا اپنی تکمیل کے لیے ایک اور دنیا کی طالب ہے۔ موجودہ دنیا اپنی ساری معنویت کے باوجود بے معنی ہے اگر اس کے ساتھ آخرت کو نہ مانا جائے۔ توازن فطرت قطب جنوبی (انٹارکٹکا) کے بارے میں روسی جغرافیہ سوسائٹی نے تحقیقات کی ہیں۔ انھوں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues