Al-Risala · November 1986 · page 7

ریاضیاتی دنیا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۷

کی حد حصہ ہے ۔ اس کی مقدار ڈھائی لاکھ مربع میٹر ہے ۔ قطب جنوبی کی برف اس وقت صرف ڈیڑھ کروڑ مربع میٹر کے علاقہ میں پھیلی ہوئی ہے ۔

اگر اس برف کو دنیا کے تمام خشک حصہ پر پھیلا دیا جائے تو موجودہ خشک زمین پر 50 میٹر برف جم جائے گی ۔ اور اگر یہ برف اچانک پگھل جائے تو دنیا کے سمندروں کی سطح 90 سے 92 میٹر تک بلند ہو جائے گی ۔ اور زمین کا دس فی صد حصہ زیر آب ہو جائے گا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا بھر کے تمام ساحلی شہر پانی کے نیچے ڈوب جائیں گے ، حتیٰ کہ بہت سے ملک پورے کے پورے پانی کے نیچے چلے جائیں گے ۔ قطب جنوبی کی تمام برف پگھلنے کی صورت میں سمندر کی اوسط حرارت دو ڈگری کم ہو جائے گی ۔ اس کی وجہ سے زمین پر موسمی تباہی آجائے گی ۔ کیوں کہ سمندر میں ایک ڈگری کے ہزارویں حصہ کی کمی بیشی فضا میں پوری ایک ڈگری کی حرارت کا فرق پیدا کرتی ہے ۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین پر جو نظام ہے وہ کس قدر متوازن نظام ہے ۔ یہاں بیک وقت مختلف تقاضوں کے درمیان اس طرح توازن قائم رکھا گیا ہے کہ ہر چیز صرف اپنا فائدہ دے ، وہ اپنے نقصان سے انسان کو بچائے رکھے ۔

یہ توازن فطرت زمین کے ہر معاملہ میں نمایاں ہے ۔ یہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ اس دنیا کے پیچھے ایک ذہن کارفرما ہے۔ اگر یہاں ذہن کی کارفرمائی نہ ہو تو موجودہ توازن کسی حال میں برقرار نہیں رہ سکتا ۔

زمین کا مطالعہ کرتے ہوئے واضح طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا جس ہستی نے زمین کے موجودہ حالات کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے اس کو معلوم تھا کہ یہاں جاندار چیزیں ( انسان، حیوان ، نباتات ) ہیں ۔ چنانچہ یہاں کی ہر چیز جاندار اشیاء کی ضرورت کے عین مطابق بنائی گئی ہے اگر یہ واقعہ آدمی کو خدا کا یقین نہ دلائے تو آخروہ کیا چیز ہوگی جو آدمی کو اس کا یقین دلائے گی ؟ نیم کا معجزہ دوسری انٹرنیشنل نیم کانفرنس دسمبر ۱۹۸۳ میں مغربی جرمنی میں ہوئی ۔ آج کل نیم کا درخت نباتاتی علماء کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیم مضر کیڑوں کو بھگانے والا ایک

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page