Al-Risala · November 1986 · page 13

شراب کی حرمت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۳

شراب کی حرمت

نئی دہلی کے ایک انگریزی روز نامہ انڈین ایکسپریس (۹ اگست ۱۹۸۶) کے صفحہ اول پر ایک تصویر ہے جس میں بہت سے آدمی افسردہ چہروں کے ساتھ اس حال میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ ان کے پیروں پر پلاسٹر چڑھا ہوا ہے۔ یہ چندنی گڑھ کے آگ بجھانے والے محکمہ کے سرکاری ملازمین ہیں۔ ان کے افسر مسٹر رنگا رڈی پی کمشنر اور ڈائریکٹر آف فائر سروسز نے ان کو بلندی سے کودنے کا حکم دیدیا تھا جس کے نتیجہ میں ان کے پاؤں یا تو ٹوٹ گئے یا شدید طور پر زخمی ہوئے ۔ مسٹر رنگا کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ حکم ان ملازمین کی جسمانی صحت (Physical fitness) کی جانچ کے لیے دیا تھا۔ دوسری طرف شائع شدہ رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے ؀ مسٹر رنگا نے آگ بجھانے والے آدمیوں کو حکم دئے دیا کہ وہ دس فٹ اونچے فائر انجن کی چھت سے کو دیں ۔ ان آدمیوں کا کہنا ہے کہ مسٹررنگا نے یہ حکم اس لیے دیا کہ وہ اس وقت شراب پی کر مدہوش ہو ر ہے تھے : Mr Ranga ordered the firemen to jump from the roof of a 10-feet high fire-engine. The firemen allege that he was drunk. Indian Express (New Delhi) August 9, 1986 p. 7 یہ ایک حقیقت ہے کہ شراب اور جرم کا بہت گہرا تعلق ہے۔ شراب انسان کی عقل کو ماؤف کر دیتی ہے۔ شراب پینے کے بعد آدمی کوئی بھی غیر معقول حرکت کر سکتا ہے۔ یہ ثابت ہوا ہے کہ سڑک کے حادثات زیادہ تر شراب نوشی کی وجہ سے واقع ہوتے ہیں ۔

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں بتایا گیا ہے کہ شراب نوشی پر ایک خاص اعتراض یہ ہے کہ شراب پی کر گاڑیاں چلانے کے سبب سے سڑک کے حادثات بہت بڑھ گئے ہیں، اس کے نتیجہ میں لوگ مرتے ہیں ، زخمی ہوتے ہیں اور جائیداد کا نقصان ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں ہر سال ۵۰ ہزار سڑک کے حادثات ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی حادثات کا سبب شراب نوشی ہے ۔ ان میں تقریبا پانچ لاکھ آدمی زخمی ہوتے ہیں اور ایک ارب ڈالر سے زیادہ جائیداد کو نقصان پہونچتا ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page