اقرار و انکار
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۵
اقرار و انکار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کے لوگوں (قریش) کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو وہ ان کے لیے قابلِ قبول نہ ہو سکی۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ محمد بن عبداللہ کا دین صحیح ہو اور وہ دین غلط ہو جن کو وہ اپنے اکابر و اسلاف کی طرف منسوب کر کے اس پر فخر کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا :
یا محمد، سل لنا ربَّكَ الذي بعثك بما اے محمد، اپنے رب سے کہو جس نے تم کو بھیجا بعثك به ، وليبحث لنا من مضى من ہے جس چیز کے ساتھ بھیجا ہے۔ کہ وہ ہمارے آبائنا وليكن فيمن يبعث لنا منهم گزرے ہوئے آباؤ کو اٹھائے۔ اور جن لوگوں قصي بن كلاب فإنه كان شيخ صدق کو وہ اٹھائے ان میں قصی بن کلاب بھی ہوں۔ فنسألهم عما تقول أحق هوأم باطل فإن کیوں کہ وہ ایک سچے بزرگ تھے۔ پھر ہم ان صدقوك صدقناك وعرفنا به منزلتك سے پوچھیں کہ جو کچھ تم کہتے ہو وہ حق ہے یا من الله تعالى وأنه بعثك رسولاً كما باطل ہے۔ اگر وہ لوگ تمہاری تصدیق کریں یا تو تم نقول ۔ بھی تمہاری تصدیق کریں گے اور اس سے ہم اللہ کے (سيرۃ ابن ہشام ، الجزء الاول ، صفحه ۳۱۶) نزدیک تمہارے درجہ کو پہچان لیں گے اور یہ کہ اس نے تم کورسول بنا کر بھیجا ہے جیسا کہ تم کہتے ہو۔
کیا وجہ ہے کہ ”قصی بن کلاب" کی بڑائی قریش کی سمجھ میں آئی مگر محمد بن عبد اللہ کی بڑائی ان کی سمجھ میں نہ آ سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قصی بن کلاب ایک گزری ہوئی شخصیت تھے ۔ اور محمد بن عبد اللہ ان کے لیے حال کی شخصیت تھے۔
قصی بن کلاب کی بڑائی انھوں نے بچپن سے سنی تھی ۔ ان کے ذہن میں یہ بات مسلم ہو چکی تھی کہ قصی بن کلاب ایک عظیم شخصیت ہیں۔ اس کے برعکس محمد بن عبد اللہ کو انھوں نے پہلی بار ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے دیکھا ۔ قصی بن کلاب سے ان کا پہلا تعارف بڑے آدمی کی حیثیت سے ہوا اور محمد بن عبد اللہ سے ان کا پہلا تعارف چھوٹے آدمی کی حیثیت سے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues