Al-Risala · November 1986 · page 16

اقرار و انکار

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶

یہی فرق تھا جس نے ان کی نظر میں ایک کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا بنا دیا۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ آدمی اس شخص کی بڑائی فوراً مان لیتا ہے جو اس کے سن شعور کو پہنچنے سے پہلے بڑا بن چکا ہو ۔ اور جو شخص اس کی نگاہوں کے سامنے بڑا بنا ہو اس کی بڑائی کو وہ تسلیم نہیں کرتا۔

اسی نفسیات کا ایک پہلو جد ہے۔ حد ہمیشہ حال کے اکابر سے ہوتا ہے نہ کہ ماضی کے اکابر سے۔

قرآن میں اہل ایمان کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں (يؤمنون بالغيب) ۔ اس آیت کا تعلق براہ راست طور پر ایمان باللہ سے ہے ، مگر بالواسطہ طور پر اس کا تعلق ایمان بالرسول سے بھی ہو جاتا ہے ۔ رسول جب آتا ہے تو باعتبار " بشر " وہ ظاہر ہوتا ہے ، مگر باعتبار "رسول" وہ غیب میں ہوتا ہے ۔ بشر ہونے کی حیثیت سے وہ ہر ایک کو دکھائی دیتا ہے ، مگر رسول ہونے کی حیثیت سے اس کو صرف وہ لوگ دیکھ پاتے ہیں جو اس کو اس کے اندرونی جوہر کے اعتبار سے پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

رسول کا ایک جسم ہوتا ہے ۔ وہ چلتا پھرتا ہے اور کھانا کھاتا ہے ۔ وہ فتح و شکست سے دوچار ہوتا ہے ، اس پر مختلف قسم کے مادی حالات طاری ہوتے ہیں ۔ ان حیثیتوں میں رسول ایک نظر آنے والی چیز ہوتا ہے ۔ ان حیثیتوں سے ہر آدمی رسول کو دیکھتا ہے ۔ رسول کی دوسری حیثیت یہ ہوتی ہے کہ اس پر خدا کا فیضان اترتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ اس کا دعویٰ ہوتا ہے کہ جو شخص میرا ساتھ دے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص میرا ساتھ نہیں دے گا ، وہ ناکام ہو کر رہ جائے گا۔ اس دوسری حیثیت میں رسول بھی اسی طرح غیر مرئی ہوتا ہے جس طرح خدا ۔

رسول کو رسول کی حیثیت سے پہچاننے کے لیے بھی " غیب " کو دیکھنے والی نظر درکار ہے۔ جو لوگ چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے دیکھ سکیں ، جو چیزوں کو ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے پہچاننے کی نگاہ رکھتے ہوں ، وہی خدا کے رسول کو پہچانیں گے ۔ ایسے ہی لوگ اس امتحان میں پورے اتریں گے کہ رسول کو مان کر اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالے کر دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page