Al-Risala · November 1986 · page 23

منافقت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳

بٹھایا جائے، غرض یہ کہ مادی قیمت رکھنے والی کوئی چیز اگر ان کے حوالے کی جائے تو وہ ان امیدوں پر پورے نہیں اترتے جو ایسی کسی چیز کی حوالگی کے بعد شرعی یا اخلاقی طور پر ان سے کی جا سکتی ہیں ۔ وہ بظاہر خوبصورت باتیں کریں گے ۔ مگر ان کی باتیں اخلاص کی گہرائی سے خالی ہوں گی ۔ وہ نمائشی اخلاق برتیں گے مگر ان کی زندگی میں حقیقی اخلاق کا کہیں پتہ نہ ہوگا ۔ مال میں خورد برد کرنا، وعدہ پورا نہ کرنا، جائداد میں ناجائز تصرف کرنا، عہدہ کو شخصی مفاد کے لیے استعمال کرنا، یہ سب امانت میں خیانت ہے ۔ اور یہ تمام خیانتیں جس طرح یہودیوں میں پائی جاتی تھیں اسی طرح وہ ان تمام نام نہاد مسلمانوں میں بھی پائی جائیں گی جن کو قرآن و حدیث میں منافق کہا گیا ہے ۔ یہودیت جھوٹی دین داری کا نام ہے اور اسی طرح منافقت بھی جھوٹی دین داری کا نام ۔

نفاق اور منافقین کے سلسلہ میں چند حدیثیں یہ ہیں : عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أربع من كن فيه كان منافقاً خالصاً ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من نفاق حتى يدعها. اذا أؤتمن خان واذا حدث كذب واذا عاهد غدر واذا خاصم فجر (متفق عليه)، زاد في رواية لمسلم: وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم۔

عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جن کے اندر وہ ہوں وہ پورا منافق ہے ۔ اور جس شخص کے اندر ان میں سے کوئی خصلت ہو تو اس کے اندر اسی کے بقدر نفاق ہوگا ، یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے ، وہ خصلتیں یہ ہیں : جب وہ امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے۔ اور جب بولے تو جھوٹ بولے۔ اور جب وعدہ کرے تو پھر جائے ۔ اور جب بحث کرے تو جھگڑنے لگے۔ ایک روایت میں مزید ہے کہ اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور سمجھے کہ میں مسلم ہوں ۔

حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page