Al-Risala · November 1986 · page 24

منافقت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۴

اور اس کا عمل ظالمانہ ہو ۔

(رواہ البيهقی)

عن أبي هريرة قال قال رسول الله ؐ حضرت ابو ہریره سے روایت ہے که رسول صلی الله عليه وسلم خصلتان لا تجتمعان اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو خصلتیں کبھی في منافق حسن سمت ولا فقه في منافق کے اندر جمع نہیں ہو سکتیں ۔ خوش خلقی الدين ۔ اور دین کا صحیح فہم ۔

قرآن میں متعدد مقامات پر نفاق اور منافق کی حقیقت بتائی گئی ہے ۔ ایک مقام پر ارشاد ہوا ہے کہ منافقین وہ لوگ ہیں جن کے اندر روگ ہے :

في قلوبهم مرض فزادهـم الله مرضاً ان کے دلوں میں مرض ہے تو اللہ نے ان کے مرض ولهم عذاب اليم بما كانوا يكذبوت کو بڑھا دیا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے (البقره - ۱۰) اس بنا پر کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔

حضرت عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم نے کہا کہ اس سے مراد دین کا مرض ہے نہ کہ جسم کا مرض ( هذا امرض في الدين وليس مرضاً في الاجساد) اس سلسلہ میں صحابہ و تابعین سے جو تفسیریں منقول ہیں ، ان میں سے ایک تفسیر میں مرض کو شک کہا گیا ہے ۔ اور دوسری تفسیر میں مرض کو ریا بتایا گیا ہے (تفسیر ابن كثير، الجزر الاول، صفحه (۸۷)

نفاق کی اصل جڑ یہی شک ہے۔ اسی سے تمام منافقانہ اوصاف پیدا ہوتے ہیں. منافق دکھاوے کی باتیں کرتا ہے، کیوں کہ اس بارہ میں وہ شک میں مبتلا رہتا ہے کہ خدا اس کے دل کے حال تک سے باخبر ہے ۔ منافق بغض و حسد میں مبتلا ہوتا ہے، کیوں کہ اس کو یقین نہیں ہوتا کہ جو کچھ کسی کو ملا ہے وہ اللہ کے دینے سے ملا ہے ، منافق برے اعمال کرتا ہے، کیوں کہ وہ اس یقین سے خالی ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد وہ اللہ کے یہاں پکڑا جائے گا ۔ منافق جھوٹی کارروائیاں کرتا ہے، کیوں کہ خدا کے بارہ میں بے یقینی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس کو ڈر نہیں ہوتا کہ ایک روز اس کے جھوٹ کا پردہ کھلے گا اور وہ ہمیشہ کے لیے بے عزت ہو کر رہ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page