Al-Risala · November 1986 · page 25

ایک تقاضا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۵

ایک تقاضا

مولانا شبلی نعمانی (۱۳۱۴-۱۸۵۷) نے جدید اسلامی تعلیم کی تحریک اٹھائی ۔ انھوں نے اس زور و شور کے ساتھ اس کی آواز بلند کی کہ ہر طرف اس کا چرچا شروع ہوگیا۔ اس وقت جدت پسند طبقہ نے یہ اعتراض کیا کہ اسلامی تعلیم مسلم نوجوانوں کو پیچھے لے جائے گی۔ کیوں کہ اسلام علم کا مخالف ہے۔ اس کی مثال یہ دی گئی کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں اسکندریہ (مصر) فتح ہوا ۔ اس وقت وہاں ایک بہت بڑا یونانی کتب خانہ تھا جو بطلیموس کے زمانہ سے چلا آرہا تھا ۔ مگر یہ مسلمان علم کے اتنے ناقدر شناس تھے کہ انھوں نے اس کتب خانہ کو جلا کر خاک کر دیا ۔ دنیا گزشتہ انسانی دماغوں کے ورثہ سے محروم ہوگئی۔

اس وقت مولانا شبلی نے اس مسئلہ کی زبردست تحقیق شروع کی اور پھر اس موضوع پر ایک محققانہ مقالہ شائع کیا۔ اس مقالہ میں انھوں نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا کہ مذکورہ کتب خانہ اسلامی فتح سے بہت پہلے برباد ہو چکا تھا۔ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں اس کا کوئی نشان تک باقی نہیں رہ گیا تھا ۔ مولانا شبلی نے تاریخی حقائق کے ذریعہ ثابت کیا کہ اسکندریہ کا کتب خانہ عیسائیوں نے اپنے زمانہ میں برباد کیا تھا ۔ بعد کو چھٹی صدی ہجری کے ایک عیسائی مورخ ابو الفرج ملطی نے یہ کیا کہ عیسائیوں کو اس الزام سے بچانے کے لیے اس واقعہ کو غلط طور پر مسلمانوں کی طرف منسوب کر دیا۔ مولانا شبلی کی یہ بات اتنی مدلل تھی کہ بعد کو خود یورپی محققین نے اس کی تائید کی ۔

اس مثال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا شبلی نے جو مہم اٹھائی وہ پوری طرح اس کے اہل (Competent) تھے۔ انھوں نے جس طرح جدید اسلامی تعلیم کا علم بلند کیا اسی طرح وقت کی طرف سے پیش آنے والے سوالات کا اعلیٰ ترین علمی اور عقلی سطح پر جواب بھی دیا۔ اس کے برعکس مثال ان لوگوں کی ہے جو موجودہ زمانہ میں ” تحفظ شریعت “ کی تحریک لے کر اٹھے ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اس عظیم تحریک کا اہل ثابت نہ کر سکے۔ انھوں نے مداخلت فی الدین کا نعرہ تو بہت لگایا مگر اس جدید ذہنی تقاضہ کو پورا نہ کر سکے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page