Al-Risala · November 1986 · page 26

ایک تقاضا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶

اسلامی قانون کو اعلیٰ سطح پر مدلل کر کے پیش کر دیں ۔

۸۶ - ۱۹۸۵ء ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اسلامی شریعت کا سال تھا۔ محمد احمد۔شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ محمد احمد اپنی مطلقہ بیوی کو ماہانہ ۸۰ روپے گزارہ ادا کریں۔ یہ فیصلہ اسلامی شریعت کے خلاف تھا۔ چنانچہ ہندوستانی مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ ہر طرف مداخلت فی الدین کے نعرے لگنے لگے۔ جلسہ اور جلوس کی سیاست نے اتنا قی کی کہ لوگوں کے خیال کے مطابق خلافت تحریک کے بعد اس قسم کی مثال نہیں دیکھی گئی ۔ بالآخر ہندوستانی مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ۔ مئی ۱۹۸۶ میں مطلقہ مسلم خواتین کے بارے میں ہندوستانی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کر دیا۔

مگر یہ فتح اپنے ساتھ ایک عظیم شکست بھی لے آئی ہے۔ مسلمانوں نے اپنی پرشور تحریک تمام تر صرف مداخلت فی الدین اور تحفظ شریعت کے نام پر چلائی ۔ ان کے اصاغر و اکابر میں سے کوئی بھی شخص یہ کام نہ کر سکا کہ مضبوط دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرتا کہ اسلام کا قانون ہی درست اور مفید تر قانون ہے۔ آج کا انسان ہر چیز کو عقل پر پرکھتا ہے۔ اب چوں کہ مسلمان اعلیٰ عقلی معیار پر شرعی قانون کو مدلل نہ کر سکے اس لیے ظاہری فتح کے باوجود ایسا نہ ہو سکا کہ لوگوں کے ذہن پر اسلامی قانون کی عظمت قائم ہوتی ۔

مسلمانوں کی ہنگامہ خیز تحریک کا یہ نتیجہ ہوا کہ اسلام کا نکاح و طلاق کا قانون سارے ملک میں زیر بحث آگیا۔ ہر اخبار و رسالہ اس کے بارے میں اظہار خیال کرنے لگا۔ ہر جگہ اس پر بحث ہونے لگی ۔ اب ایک طرف ہمارے علماءتھے جو اصرار کر رہے تھے کہ شریعت کے مطابق مطلقہ عورت کو نفقہ نہیں دیا جاسکتا۔ دوسری طرف مسلمانوں کا جدید طبقہ اور غیر مسلم حضرات تھے جو ہندوستان کے کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۲۵ کی حمایت کر رہے تھے جس کے مطابق مطلقہ عورت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سے ۵۰۰ روپیہ سالانہ کی حد تک گزارہ وصول کر سکتی ہے ۔

اسلام کا قانون بلاشبہ انتہائی معقول اور بہتر قانون ہے۔ مگر ہمارے علماء اس کی معقولیت کو جدید دلائل کے ساتھ ثابت شدہ نہ بنا سکے ۔ وہ صرف مداخلت فی الدین کے نام پر

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page