Al-Risala · November 1986 · page 27

ایک تقاضا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۷

لوگوں کی بھیڑ جمع کرتے رہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بظاہر دیکھنے والوں کو اسلام کا قانون کمتر اور جدید قانون برتر نظر آیا ۔ اسلام کا قانون ، علماء کی نمائندگی کے مطابق ، بس یہ تھا کہ ایک مرد جب چاہے اپنی عورت کو طلاق دے کر اپنے گھر سے رخصت کر دے اور اس کے بعد اس کے اخراجات کی کوئی ذمہ داری مرد کے اوپر نہ رہے ۔ دوسری طرف جدید قانون کی تصویر ان کے سامنے یہ آئی کہ وہ طلاق کے بعد بھی عورت کو سہارا دیتا ہے ۔ وہ شوہر کی زیادتی کی تلافی اس صورت میں کرتا ہے کہ اس کو قانونی طور پر پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی مطلقہ بیوی کو ماہانہ گزارہ ادا کرے۔ ہمارے علماء نے جو کچھ کیا ، اپنی نیت کے اعتبار سے تحفظ شریعت کے لیے کیا ، مگر عملاً وہ اسلام کو کم تر (Degrade) کرنے کے ہم معنی بن گیا ۔

اس میں یہ سبق ہے کہ آدمی کو ہمیشہ ایسے کام کو لے کر اٹھنا چاہیے جس کے لیے وہ واقعۂ اہل (Competent) ہو ۔ اگر وہ پیش نظر مہم کو سنبھالنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اس کا چپ رہنا اس سے بہتر ہے کہ وہ اقدام کرے ۔ کیوں کہ وہ اقدام کر کے بات کو اور بگاڑ دے گا ، وہ اس کو بنانے کا سبب نہیں ہو سکتا ۔

17 مئی ۱۹۸۶ کا واقعہ ہے ۔ اس دن نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک اجتماع (Dialogue) تھا ۔ اس موقع پر راجدھانی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان اور ہندو بلائے گئے ۔ پروگرام کے مطابق ایک مشہور مسلمان قائد نے مفصل تقریر کی ۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ شریعت ہم کو جان سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔ ہم کسی قیمت پر شریعت کے اندر مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے ۔ قرآن کے مطابق مطلقہ عورت کے لیے نفقہ نہیں ہے ۔ اس لیے ہم کسی مسلمان عورت کو یہ اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ ملکی عدالت میں جائے اور وہاں سے ملکی قانون کے مطابق اپنے سابق شوہر سے نفقہ وصول کرنے کا حکم حاصل کرے ۔ قائد موصوف نے اس موضوع پر کافی پرجوش تقریر کی مگر وہ یہ نہ کر سکے کہ شریعت کے اصول کو عقلی طور پر اس طرح مدلل کریں کہ لوگ اس کی برتری ماننے پر مجبور ہو جائیں ۔ چنانچہ جب انھوں نے تقریر ختم کی تو ایک ہندو بزرگ نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی باتیں قبول نہیں کی جا سکتیں ۔ آپ کو اپنے قانون کی معقولیت بتانی ہوگی ۔ صرف ادعا ہرگز کافی نہیں ۔ کل

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page