ایک تقاضا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۸
اگر آپ یہ کہیں کہ ہماری شریعت میں لکھا ہوا ہے کہ بہو پر تیل چھڑک کر اس کو جلا دو تو کیا آپ کو اپنی بہو کو جلانے دیا جائے گا۔ اور ملکی قانون اس میں مداخلت نہیں کرے گا۔ ہندو مقرر نے سب کے سامنے علی الاعلان یہ بات کہی۔ مگر قائد موصوف اس کی تردید میں کوئی مدلل بات پیش نہ کر سکے ۔
ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانہ تعقل کا زمانہ ہے ۔ موجودہ زمانہ کا انسان ہر بات کو عقل پر جانچتا ہے اور اس کو اسی وقت قبول کرتا ہے جب کہ وہ عقلی معیار پر پوری اترے ۔ ایسی حالت میں اگر ہم کسی اسلامی اشو کو عوامی سطح پر اٹھائیں اور اس کے عنوان پر ہنگامہ خیز سیاست چلائیں تو ہمیں پیشگی طور پر یہ جاننا چاہیے کہ آج کل کا انسان اس کے حق میں عقلی دلیل مانگے گا۔ وہ اس کو قابلِ لحاظ ماننے کے لیے یہ مطالبہ کرے گا کہ اس کو معقول اور مدلل بنا کر پیش کرو۔ اگر ہم ایسا نہ کر سکیں تو ہم جدید انسان کی نظر میں اسلام کو کمتر اور حقیر بنا کر رکھ دیں گے خواہ بطورِ خود ہم یہی سمجھتے رہیں کہ ہم نے اسلام کا جھنڈا پارلیمنٹ کی دیواروں پر گاڑ دیا ہے ۔
پانی پت کے قریب ایک گاؤں میں ۲۸ دن کا ایک بچہ چرا لیا گیا اور اس کو "دیوی جی" کے نام پر قربان کر دیا گیا۔ قربانی کرنے والوں کا عقیدہ تھا کہ اس طرح ان کی مراد پوری ہو جائے گی۔ (ٹائمز آف انڈیا ۹ ستمبر ۱۹۸۶) اس طرح کے واقعات اخباروں میں برابر آتے رہتے ہیں۔ اسی طرح افریقہ کے بعض قبائل اپنے توہماتی عقیدہ کے تحت اپنی عورتوں کے چہرے گرم لوہے سے داغتے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں ساری عمر کے لیے ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنے رواجوں کو قانون کی صورت دینے کے لیے ہنگامے کریں اور ووٹ پسند حکمراں ان کے حق میں قانون بھی بنا دیں تب بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ آج کی دنیا میں ان کو با عزت مقام حاصل ہو جائے ۔ اسلام کا قانون بلاشبہ معقول ترین قانون ہے ۔ مگر موجودہ زمانہ میں اس کی معقولیت پر پردہ پڑ گیا ہے۔ آج اصل ضرورت یہ ہے کہ ان پردوں کو ہٹا کر اسلام کی تعلیمات کی معقولیت کو دوبارہ نمایاں کیا جائے ۔ جس دن اسلام کو یہ فکری عظمت حاصل ہوگی، بقیہ تمام عظمتیں اپنے آپ اس کو حاصل ہو جائیں گی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues