Al-Risala · November 1986 · page 29

ایک تقاضا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۹

ایک سفر

ایک پروگرام کے تحت بھوپال کا سفر ہوا۔ بھوپال ہندوستان کا ایک قدیم شہر ہے جو دہلی سے سات سو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ موجودہ سفر کو ملا کر یہاں کے لیے اب تک میرے چار سفر ہو چکے ہیں۔ تفصیل یہ ہے :

پہلا سفر جنوری ۱۹۸۱ دوسرا سفر اپریل ۱۹۸۲ تیسرا سفر نومبر ۱۹۸۳ چوتھا سفر اپریل ۱۹۸۶ ۱۸ اپریل ۸۶ کی شب کو تامل ناڈو ایکسپریس کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ دہلی سے بھوپال کے لیے یہ سب سے کم وقت کی ٹرین ہے۔ تاہم مشینی سواریوں سے مجھے اتنی وحشت ہوتی ہے کہ ہوائی جہاز کا سفر بھی مجھ کو دیر طلب معلوم ہوتا ہے۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے ریل مجھ کو لوہے اور لکڑی کا ایک دوڑتا ہوا قید خانہ نظر آتی ہے، ایک ایسا قید خانہ جس میں داخل ہونا اپنے بس میں ہو اور اس سے نکلنا صرف دوسرے کے بس میں۔

ہندوستان (بمبئی) میں ریلوے کا آغاز ۱۸۵۳ میں ہوا۔ ہندوستان کے ریلوے سسٹم کی مجموعی لمبائی ۳۴ ہزار میل سے کچھ زیادہ ہے۔ وہ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا نظام ہے۔ بقیہ تین ممالک امریکہ اور روس اور کناڈا ہیں۔ ہندوستانی ریلوے میں چودہ لاکھ سے زیادہ آدمی ملازم ہیں۔ اس کے پاس تقریبا بارہ ہزار انجن اور دس ہزار ٹرینیں ہیں۔ یہ ٹرینیں روزانہ تقریباً سات لاکھ مسافر ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں ۔ اور روزانہ پانچ لاکھ ٹن سے زیادہ سامان ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتی ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ ریلوے کی تاریخ سولہویں صدی عیسوی کے وسط تک جاتی ہے۔ اس وقت جرمنی کی بعض کوئلہ کی کانوں میں ابتدائی ریل چلائی گئی جس کو گھوڑے کھینچتے تھے اور وہ لکڑی کی پٹری پر چلتی تھی۔ اسٹیم سے چلنے والا پہلا انجن ۱۸۰۳ میں انگلینڈ میں بنایا گیا۔ تاہم ریلوے کا دور

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page