ایک تقاضا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۰
حقیقی معنوں میں ۱۵ ستمبر ۱۸۳۰ کو شروع ہوا جب لوگوں نے پہلی بار ایک باقاعدہ ٹرین کا منظر دیکھا جولیور پول اور مانچسٹر کے درمیان سیٹی بجاتی ہوئی دوڑ رہی تھی اور اس کا انجن، سامان اور مسافر کو لیے ہوئے لوہے کی پٹری پر چلا جا رہا تھا ۔
پچھلے ڈیڑھ سو سال میں ریلوے میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ حب پان میں گولی ٹرین (Bullet train) ایجاد ہو چکی ہے ۔ فرانس میں ایسی ٹرین بنائی گئی ہے جو ۲۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے ۔ اس کے پہیے ریل کی پٹری پر نہیں چلتے بلکہ ہوا کے گدے (Cushion of air) پر چلتے ہیں ۔ یہ ہوائی گدا تقریباً ایک انچ موٹا ہوتا ہے ۔ جو ریل کی رفتار کے دوران اس کے پہیے اور ریل کی پٹری کے درمیان بنتا ہے ۔
۱۹ اپریل کی صبح کو سو کر اٹھا تو ہماری گاڑی مدھیہ پردیش کے میدانوں میں دوڑ رہی تھی ۔ جگہ جگہ درخت اور سبزہ کا منظر تھا ۔ صبح کا سورج بلند ہو کر پوری فضا کو روشن کر رہا تھا ۔ اس قسم کی ایک دنیا کا وجود میں آنا تمام عجائبات میں سب سے بڑا عجوبہ ہے ۔ ایک ایسی دنیا جہاں پانی اور سبزہ ہو، جہاں سورج ایک خاص تناسب سے روشنی اور حرارت پہنچائے ۔ جہاں وہ بے شمار اسباب جمع ہوں جس نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ایک ٹرین بن کر تیار ہو اور وہ اس کی سطح پر تیز رفتاری کے ساتھ دوڑے ۔ ایسی دنیا اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کا تعارف ہے ۔ وہ اپنے خالق کا اعلان کر رہا ہے ۔ بنانے والے نے اس دنیا کو عجیب ڈھنگ سے بنایا ہے ۔ یہاں واقعہ دکھائی دیتا ہے مگر صاحب واقعہ نظر نہیں آتا ۔ یہاں تخلیق کا منظر ہر طرف پھیلا ہوا ہے مگر ان کے درمیان خالق بظاہر کہیں موجود نہیں ۔ اس صورت حال نے بہت سے لوگوں کو خدا کا منکر بنا دیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم خدا کو دیکھتے نہیں تو ہم کیسے اسے مان لیں۔ مگر خدا کے انکار کے لیے یہ بنیاد کافی نہیں ۔ ہم جس ٹرین میں سفر کر رہے ہیں وہ ایک بہت بڑی ٹرین ہے ۔ وہ ۱۱۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل دوڑ رہی ہے ۔ ہم اس کے اندر بیٹھے ہوئے منزل کی طرف چلے جا رہے ہیں ۔ بظاہر ہم ریل کے ڈرائیور کو نہیں دیکھتے ۔ اس کا نام بھی ہم کو نہیں معلوم ۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ گاڑی کا ایک ڈرائیور ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے ۔
ہم کو یہ یقین کیوں ہے ۔ منکر خدا کہیں گے ، اس لیے کہ اگر چہ ہم ڈرائیور کو نہیں دیکھتے مگر ہم
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues