ایک تقاضا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۱
کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ کسی بھی اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں اور وہاں اس کو دیکھیں، لیکن یہ محض ایک مغالطہ ہے ۔ اگر ہم اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں اور گاڑی کے ڈرائیور کو دیکھیں تو ہم کیا چیز دیکھیں گے۔ ہم صرف ہاتھ پاؤں والے ایک جسم کو دیکھیں گے۔ مگر کیا یہی دکھائی دینے والا جسم ہے جو گاڑی کو چلا رہا ہے ۔ یقینا نہیں۔ انجن کو چلانے والا در اصل ذہن ہے نہ کہ ظاہری جسم۔ چنانچہ موت کے بعد ڈرائیور کا جسم پوری طرح موجود رہتا ہے مگر وہ گاڑی کو چلا نہیں پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی وہی صورت حال ہے۔ ہم گاڑی کا ایک ڈرائیور مان رہے ہیں ، بغیر اس کے کہ ہم نے ڈرائیور کو واقعی طور پر دیکھا ہو۔
موجودہ زمانہ کے منکرین خدا کہتے ہیں کہ یہ دنیا محض اتفاق سے بن گئی ہے۔ اس کا کوئی موجد اور خالق نہیں ۔ مگر موجودہ کائنات جیسی با معنی کائنات کا محض اتفاق سے ظہور میں آنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کباڑ خانہ میں دھماکہ ہونے سے ایک ایکسپریس ٹرین بر آمد ہو جائے یا اچانک ایک ہوائی جہاز بن کر ہوا میں اڑنے لگے ۔
میرے ساتھ ثانی اشنین خاں بھی بھو پال گیے تھے ۔ انھوں نے اپنا ٹکٹ عین روانگی کے دن ۱۸ اپریل کو لیا ۔ جب کہ میرا ٹکٹ روانگی سے دو ہفتہ پہلے لیا گیا تھا ۔ بظاہر دونوں کو الگ الگ ڈبہ میں ہونا چاہیے تھا ۔ مگر اسٹیشن پہنچ کر ریزرویشن چارٹ دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ دونوں کی برتھ ایک ہی بوگی کی ایک ہی کیبن میں ہے ۔ بظاہر یہ خلاف امید تھا۔ یہ جو ہوا، ہماری کسی کوشش کے بغیر محض اتفاق سے ہوا۔
اس قسم کے اتفاقی واقعات ہماری دنیا میں پیش آتے رہتے ہیں ۔ انھیں جزئی مثالوں کو لے کر موجودہ زمانہ کے منکرین یہ کہتے ہیں کہ یہ پورا عالم محض اتفاق سے بن گیا ہے ۔ مگر یہ سراسر بے بنیاد قیاس ہے۔ اتفاق کی بنا پر کبھی ایسا تو ہو سکتا ہے کہ دو مسافر کسی ٹرین کے لیے الگ الگ ریزرویشن کرائیں اور دونوں کو اتفاق کی بنا پر ایک ہی ڈبہ میں نیچے اوپر جگہ مل جائے ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ ایک پوری بھری ہوئی ٹرین اور اس کا پورا نظام محض اتفاق کے تحت وجود میں آجائے ۔ پہلا واقعہ بلاشبہ ممکن ہے اور دوسرا واقعہ بلاشبہ ناممکن ۔
۱۹ اپریل ۱۹۸۶ کی صبح کو بھوپال پہنچا۔ یہاں میرا قیام جناب حافظ وحید الدین صاحب کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues